Display4

اُمتِ محمدیہ کا بہترین اُمت ہونا
تم بہترین اُمت ہو کہ لوگوں کے (نفع رسانی) لے لئے نکالے گئے ہو۔ تم لوگ نیک کام کا حکم کرتے ہو اور بُرے کام سے منع کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو۔

مسلمانوں کا اشرف الناس اور امت محمدیہ کا اشرف الامم ہونا متعدد احادیث میں تصریح سے وارد ہوا ہے۔ قرآن پاک کی آیات میں بھی کئی جگہ اس مضمون کو صراحتاً و اشارۃً بیان فرمایا گیا ہے۔ اس آیت شریفہ میں بھی خیر اُمتہ کا اطلاق فرمایا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی اس کی علت کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ تم بہترین امت ہو اس لئے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہو۔
مفسرین نے لکھا ہے کہ اس آیت شریفہ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ایمان سے بھی پہلے ذکر فرمایا حالانکہ ایمان سب چیزوں کی اصل ہے، بغیر ایمان کے کوئی خیر بھی  معتبر نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان میں تواور اُمم سابقہ بھی شریک تھیں۔ یہ خاص خصوصیت جس کی وجہ سے تمام انبیاءعلیہم الصلوٰۃ والسلام کے متبعین سے اُمتِ محمدیہ کو تفوق ہے وہ یہی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے جو اس امت کا تمغہ امتیاز ہے اور چونکہ بغیر ایمان کے کوئی عمل خیر معتبر نہیں اس لئے ساتھ ہی بطورِ قید کے اس کو بھی ذکر فرما دیاورنہ اصل مقصود اس آیت شریفہ میں اسی کا ذکر فرمانا ہے اور چونکہ وہی اس جگہ مقصود بالذکر ہے اس لئے اس کو مقدم فرمایا۔
اس اُمت کے لیے تمغہ امتیاز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا مخصوص اہتمام کیا جائے ورنہ کہیں چلتے پھرتے تبلیغ کر دینا اس میں کافی نہیں۔ اس لئے کہ یہ امر پہلی اُمتوں میں بھی پایا جاتا تھا جس کو   فلما نسوا ما ذکرو بہ وغیرہ آیات میں ذکر فرمایا ہے ۔ امتیاز مخصوص اہتمام کا ہے کہ اس کو مستقل کام سمجھ کر دین کے اور کاموں کی طرح سے اس میں مشغول ہوں۔
عام لوگوں کی اکثر سرگوشیوں میں خیر(وبرکت) نہیں ہوتی مگر جو لوگ ایسے ہیں کہ صدقہ خیرات کی یا اور کسی نیک کام کی یا لوگوں میں باہم اصلاح کر دینے کی ترغیب دیتے ہیں(اور اس تعلیم و ترغیب کے لئے خفیہ تدبیریں اور مشورے کرتے ہیں ان کے مشوروں میں البتہ خیروبرکت ہے) اور جو شخص یہ کام (یعنی نیک اعمال کی ترغیب محض) اللہ کی رضا کے واسطے کریگا( نہ کہ لالچ یا شہرت کی غرض سے)اس کو ہم عنقریب اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔
اس آیت میں حق تعالیٰ شاُنہ نے امر بالمعروف کرنے والوں کے لئے بڑے اجر کا دعدہ فرمایا ہے او جس اجر کو خود اللہ تعالیٰ بڑا فرماویں اس کی کیا انتہا ہو سکتی ہے۔ اس آیت شریفہ کی تفسیر میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک نقل کیا گیا ہے کہ آدمی کا ہر کلام اس پر بار ہے مگر یہ کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہو یا اللہ کا ذکر ہو۔
دوسری احادیث میں نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہےکیا میں تم کو ایسی چیز نہ بتاؤں جو نفل نماز روزہ صدقہ سب سے افضل ہو، صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کیا ضرور ارشاد فرما ئیے حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ"  لوگوں میں مصالحت کرانا کیونکہ آپس کا بگاڑ نیکیوں کو اس طرح صاف کر دیتا ہے جیسا کہ اُسترا بالوں اُڑا دیتا ہے"
اور بھی بہت سی نصوص میں لوگوں کے درمیان مصالحت کرانے کا تاکید فرمائی گئی ہے اس جگہ اس کا ذکر مقصودنہیں اس جگہ اس بات کا بیان کرنا مقصود ہے کہ امر بالمعروف میں یہ بھی داخل ہے کہ لوگوں میں مصالحت کی صورت جس طریق سے بھی پیدا ہو سکے اس کا بھی ضرور اہتمام کیا جائے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post