Display4

امر بالمعروف و نہی عن المنکر
بیٹا نماز پڑھا کر اور اچھے کا موں کی نصیحت کیا کر اور بُرے کاموں سے منع کیا کر اور تجھ پر جو مصیبت واقع ہو اس پر صبر کیا کر کہ یہ ہمت کہ کاموں میں سے ہے۔
اس آیت شریفہ میں مہتم بالشان اُمُور کو ذکر فرمایا ہے اور حقیقتاً یہ اُمُور اہم ہیں تمام کامیابیوں کا ذریعہ ہیں مگر ہم لوگوں نے ان ہی چیزوں کو خاص طور سے پسِ پشت ڈال رکھا ہے۔ امر بالمعروف کا تو ذکر ہی کیا کہ وہ  تو تقریباً سب ہی کے نزدیک متروک ہے۔ نماز جو تمام عبادات میں سب سے زیادہ اہم چیز ہے اور ایمان کے بعد سب سے مقدم اسی کا درجہ ہے اس کی طرف سے بھی کس قدر غفلت برتی جاتی ہےان لوگوں کو چھوڑ کر جو بے نمازی کہلاتے ہیں خود نمازی لوگ بھی اس کا کامل اہتمام نہیں فرماتے بالخصوص جماعت جس کی طرف اقامتِ نماز سے اشارہ ہے صرف غرباء کے لئے رہ گئی اُمراء اور باعزت لو گوں کے لئے مسجد میں جانا گویا عار بن گیا ہے۔
اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے کہ خیر کی طرف بلائے اور نیک کاموں کے کرنے کو کہا کرے اور بُرے کاموں سے روکا کرے اور ایسے لوگ پورے کامیاب ہوں گے۔
حق سبحانہ و تقدس نے  اس آیت شریفہ میں ایک مضمون کا حکم فرمایا ہے وہ یہ کہ اُمت میں سے ایک جماعت اس کام کے لئے مخصوص ہو کہ وہ اسلام کی طرف لوگوں کو تبلیغ کیا کرے یہ حکم مسلمانوں کے لئے تھا مگر افسوس کہ اس اصل کو ہم لوگوں نے بالکلیہ ترک کر دیا ہے اور دوسری قوموں نے نہایت اہتمام سے پکڑ لیا ہے۔ نصاریٰ کی مستقل جماعتیں دنیا میں تبلیغ کے لئےمخصوص ہیں اور اسی طرح دوسری اقوام میں اس کے لئے مخصوص کارکن موجود ہیں لیکن کیا مسلمانوں میں بھی کوئی جماعت ایسی ہے؟اس کا جواب نفی میں نہیں تو اثبات میں بھی مشکل ہے۔
اگر کوئی جماعت یا کوئی فرد اس کے لئے اٹھتا بھی ہے تو اس وجہ سے کہ بجائےاعانت کے اس پر اعتراضات کی اس قدر بھرمار ہوتی ہے کہ وہ آج نہیں تو کل تھک کر بیٹھ جاتا ہے۔ حالانکہ خیر خواہی کا مقتضا یہ تھا کہ اس کی مدد کی جاتی اور کوتاہیوں کی اصلاح کی جاتی، نہ یہ کہ خود کوئی کام کیا جاوے اور کام کرنے والوں کو اعتراضات کا نشانہ بنا کر ان کو کام کرنے سے گویا روک دیا جائے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post