Display4

رطب اللسان رہنے کی تاکید
ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ احکام تو شریعت کے بہت سے ہیں ہی، مجھے ایک چیز کوئی ایسی بتا دیجئے جس کو میں اپنا دستور اور مشغلہ بنا لوں۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے ذکرسے تو ہر وقت رطبُ اللسان رہے۔

ایک اور حدیث میں ہے۔ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جدائی کے وقت آخری گفتگوجو حضورﷺسے ہوئی وہ یہ تھی۔ میں نے دریافت کیا کہ سب اعمال میں محبوب ترین عمل اللہ کے نزدیک کیا ہے حضورﷺنے ارشاد فرمایا کہ اس حال میں تیری موت آوے کہ اللہ کے ذکر میں رطب اللسان ہو۔
جدائی کے وقت کا مطلب یہ ہے کہ حضور اقدسﷺنے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اہل یمن کی تبلیغ و تعلیم کے لئے یمن کا امیر بنا کر بھیجا تھا۔ اس وقت رخصت کے وقت کچھ وصیتیں بھی فرمائی تھیں۔ اور انھوں نے بھی کچھ سوالات کئے تھے۔ شریعت کے احکام بہت سے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہر حکم کی بجا آوری تو ضروری ہے ہی، لیکن ہر چیز میں کمال پیدا کرنا اور اس کو مستقل مشغلہ بنانا دشوارہے اس لئے ان میں سے ایک چیز جو سب سے اہم ہو مجھے ایسی بتا دیجیےکہ اس کو مضبوط پکڑ لوں اور ہر وقت ہر جگہ چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے کرتا رہوں۔

ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ چار چیزیں ایسی ہیں کہ جس شخص کو یہ مل جائیں اس کو دین اور دنیا کی بھلائی مل جائے۔ ایک وہ زبان جو ذکر میں مشغول رہنے والی ہو، دوسرے وہ دل جو شکر میں مشغول رہتا ہو، تیسرے وہ بدن جو مشقت برداشت کرنے والا ہو، چوتھے وہ بیوی جو اپنے نفس میں اور خاوند کے مال میں خیانت نہ کرے۔ نفس میں خیانت یہ ہے کہ کسی قسم کی گندگی میں مبتلا ہو جائے۔
رطبُ اللسان کا مطلب اکثر علماء نے کثرت کا لکھا ہے اور یہ عام محاورہ ہے۔ ہمارے عُرف میں بھی جو شخص کسی کی تعریف یا تذکرہ کثرت سے کرتا ہے تو یہ بولا جاتا ہے کہ فلاں کی تعریف میں رطبُ اللسان ہے۔ مگر بندہ ناچیز کے خیال میں ایک دوسرا مطلب بھی ہو سکتا ہے وہ یہ کہ جس سے عشق و محبت ہوتی ہے اُس کا نام لینے سے منہ میں ایک لذت اور مزہ محسوس ہوا کرتا ہے۔ جن کو باب عشق سے کچھ سابقہ پڑ چکا ہے وہ اس سے نا واقف ہیں۔اس بنا پر مطلب یہ ہے کہ اس لذت سے اللہ کا پاک نام لیا جائے کہ مزہ آ جائے۔
میں نے اپنے بزرگوں کو بکثرت دیکھا ہے کہ ذکر بالجہر کرتے ہوئے ایسی تراوٹ آ جاتی ہے کہ پاس بیٹھنے والا بھی اس کو محسوس کرتا ہے اور ایسا منہ میں پانی بھر جاتا ہےکہ ہر شخص اس کو محسوس کرتا ہے مگر یہ جب حاصل ہوتا ہے کہ جب دل میں چسک ہواور زبان کثرت ذکر کے ساتھ مانوس ہو چکی ہو۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ اللہ سے محبت کی علامت اس کے ذکر سے محبت ہے اللہ سے بغض کی علامت اس کے ذکر سے بُغض ہے۔
حضرت ابو دردا رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کی زبان اللہ کے ذکر سے تروتازہ رہتی ہے وہ جنت میں ہنستے ہوئے داخل ہوں گے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post