Display4

اللہ تعالیٰ کے ساتھ نیک گمان
حضور اکرم ﷺکا ارشا د ہے کہ حق تعالیٰ شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں بندے کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں جیسا کہ وہ میرے ساتھ گمان رکھتا ہے اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہےتو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں پس اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے دل میں یا د کرتا ہوں  اور اگر وہ میرا مجمع میں ذکر کرتا ہے تو میں اس مجمع سے بہتر یعنی فرشتوں کے مجمع میں (جو معصوم او ر بے گناہ ہیں) تذکرہ کرتا ہوں اور اگر بندہ میری طرف ایک بالشت متوجہ ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں دو ہاتھ ادھر متوجہ ہوتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر چلتا ہوں
اس حدیث شریف میں کئی مضمون وارد ہیں۔ اول یہ کہ بندہ کے ساتھ اس کے گمان کے موافق معاملہ کرتا ہوں جس کا مطلب یہ ہے کہ حق تعالیٰ شانہ سے اس کے لطف و کرم کی امید رکھنا چاہیے اس کی رحمت سے ہرگز مایوس نہ ہونا چاہیے۔ یقیناً ہم لوگ گنہگار ہیں اور سراپا گناہ اور اپنی حرکتوں اور گناہوں کی سزا اور بدلہ کا یقین ہے لیکن اللہ کی رحمت سے مایوس بھی نہ ہونا چاہیے کیا بعید کہ حق تعالیٰ شانہ محض اپنے لطف و کرم سے بالکل ہی معاف فرما دیں کہ کلام اللہ شریف میں وارد ہے (ترجمہ) حق تعالیٰ شانہ شرک کے گناہ کو تو معاف نہیں فرمائیں گے اس کے علاوہ جس کو چاہیں گے سب کچھ معاف فرمائیں گے۔لیکن ضروری نہیں کہ معاف ہی فرما دیں اسی وجہ سے علماء فرماتے ہیں کہ ایمان امید اور خوف کے درمیان ہے۔
حضور اقدس ﷺایک نوجوان صحابی کے پاس تشریف لے گئے وہ نزع کی حالت میں تھے۔ حضور اقدس ﷺ نے دریافت فرمایا کس حال میں ہو عرض کیا یا رسول اللہ ، اللہ کی رحمت کا امید وار ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈر رہا ہوں۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ دونوں یعنی امید اور خوف جس بندہ کے دل میں ایسی حالت میں ہوں تو اللہ جل شانہ جو امید ہے وہ عطا فرما دیتے ہیں او ر جس کا خوف ہے اس سے امن عطا فرما دیتے ہیں۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ مومن اپنے گناہ کو ایسا سمجھتا ہے کہ گویا ایک پہاڑ کے نیچے بیٹھاہے اور وہ پہاڑ اس پر گرنے لگا ۔ اور فاجر شخص گناہ کو ایسا سمجھتا ہے گویا ایک مکھی بیٹھی تھی اڑا دی یعنی ذرا پرواہ نہیں ہوتی مقصود یہ ہے کہ گناہ کا خوف اس کے مناسب ہو نا چاہیے اور رحمت کی امید اس کے مناسب۔
حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ طاعون میں شہید ہوئے۔ انتقال کے قریب زمانہ میں بار بار غشی ہوتی تھی جب افاقہ ہوتا تو فرماتے یا اللہ تجھے معلوم ہے کہ مجھ کو تجھ سے محبت ہے۔ تیری عزت کی قسم تجھے یہ بات معلوم ہے۔جب بالکل موت کا وقت قریب آگیا تو فرمایا کہ اے موت تیرا آنا مبارک ہے۔کیا ہی مبارک مہمان آیا۔ مگر فاقہ کی حالت میں یہ مہمان آیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا۔ اے اللہ تجھے معلوم ہے کہ میں ہمیشہ تجھ سے ڈرتا رہا آج تیرا امیدوارہوں۔ یا اللہ مجھے زندگی کی محبت تھی مگر نہریں کھودنے اور باغ لگانے کے واسطے نہیں تھی بلکہ گرمیوں کی شدت پیاس برداشت کرنے اور (دین کی خاطر) مشقتیں جھیلنے کے واسطے اورذکر کے حلقوں میں علما ء کے پاس جم کر بیٹھنے کے واسطے تھی۔بعض علماء نے لکھا ہے کہ حدیث بالا میں گمان کے موافق معاملہ عام حالات کے اعتبار سے ہے خاص مغفرت کے متعلق نہیں۔
دعا، صحت ، وسعت، امن وغیرہ سب چیزیں اس میں داخل ہیں مثلاً دعا ہی کے متعلق سمجھو مطلب یہ ہے اگر بندہ یہ یقین کرتا ہے کہ میری دعاقبول ہوتی ہے اور ضرور ہو گی تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے اور اگر یہ گمان کرے ے میری دعا قبول نہیں ہوتی تو ویسا ہی معاملہ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ دوسری احادیث میں آیا ہے کہ بندہ کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک یہ نہ کہنے لگے کہ میری تو دعا قبول نہیں ہوتی۔ اسی طرح صحت تونگری وغیرہ سب امور کا حال ہے
حدیث میں آیا ہے کہ جس شخص کو فاقہ کی نوبت آئے اگر لوگوں سے کہتا پھرے تو تونگر ی نصیب نہیں ہوتی۔ اللہ کی پاک بارگاہ میں عرض کرے تو جلد یہ حالت دور ہو جائے لیکن یہ ٖضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہ کے ساتھ حسن ظن اور چیز ہے اور اللہ پر گھمنڈ دوسری چیز ہے۔ کلام اللہ شریف میں مختلف عنوانات سے اس پر تنبیہ کی گئی۔ ارشاد ہے (اور نہ دھوکے میں ڈالے تم کو گھوکہ باز) یعنی شیطان تم کو یہ نہ سمجھائے کہ گناہ کئے جاؤ اللہ غفوررحیم ہے۔ دوسری جگہ ارشاد ہے(کیا وہ غیب پر مطلع ہو گیا یا اللہ تعالیٰ سے اس نے عہد کر لیا ہے ایسا ہرگز نہیں)
دوسرا مضمون یہ ہے کہ جب بندہ مجھے یا د کرتا ہے تو جب تک اس کے ہونٹ میر ی یا د میں حرکت کرنے رہتے ہیں میں اس کے ساتھ ہو تا ہوں یعنی میری خاص توجہ اس پر رہتی ہےاور خصوصی رحمت کا نزول ہوتا رہتا ہے
تیسرا مضمون یہ ہے کہ میں فرشتوں کے مجمع میں ذکر کرتا ہوں یعنی تفاخر کے طور پر ان کا ذکر فرمایا جاتا ہے۔ ایک تو اس وجہ سے کہ آدمی کی خلقت جس ترکیب سے ہوئی ہے اس کے موافق اس میں اطاعت اور معصیت دونوں کا مادہ رکھا ہے ۔ اس حالت میں اطاعت کا کرنا یقیناً تفاخر کا سبب ہے۔ دوسرے اس وجہ سے کہ فرشتوں نے ابتداء خلقت کے وقت عرض کیا تھا"آپ ایسی مخلوق کو پیدا فرماتے ہیں جو دنیا میں خونریزی  اور فسادکرے گی" اور اس کی وجہ بھی وہی مادہ فساد کا  ان میں ہونا ہے بخلاف فرشتوں کےکہ ان میں یہ مادہ نہیں اسی لیے انہوں نے عرض کیا تھاکہ تیری تسبیح وتقدیس ہم کرتے ہی ہیں، تیسرے اس وجہ سے کہ انسان کی اطاعت اس کی عبادت فرشتوں کی عبادست سے اس وجہ سے بھی افضل ہے کہ انسان کی عبادت غیب کے ساتھ ہے اور فرشتوں کی عالم آخرت کے مشاہدہ کے ساتھ ۔ اس کی طرف اللہ پاک کے اس کلام میں یہ اشارہ ہے کہ اگر وہ جنت اور دوزخ کودیکھ لیتے تو کیا ہوتا۔ ان وجوہ سے حق تعالیٰ شانہ اپنے یا د کرنے والوں اور اپنی عبادت کرنے والوں کے کارنامے جتاتے ہیں
چوتھا مضمون حدیث میں یہ ہے کہ بندہ جس درجہ میں حق تعالیٰ شانہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اس سے زیا دہ توجہ اور لطف اللہ جل شانہ کی طرف سے اس بندہ پر ہوتا ہے یہی مطلب ہے قریب ہونے اور دوڑ کرچلنے کا کہ میرا لطف اور میری رحمت تیزی کے ساتھ اس کی طرف چلتی ہے اب ہر شخص کو اپنا اختیار ہے کہ جس قدر رحمت و لطف الٰہی کواپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے۔ اتنی ہی اپنی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھائے
پانچویں بحث اس حدیث میں یہ ہے کہ اس میں فرشتوں کی جماعت کو بہتر بتایا ہے ذکر کرنے والے شخص سے حالانکہ یہ مشہور امر ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے ۔ اس کی ایک وجہ تو ترجمہ میں ظاہر کر دی گئی ہے کہ ان کا بہتر ہونا ایک خاص حیثیت سے ہے کہ وہ معصوم ہیں ان سے گناہ ہو ہی نہیں سکتا۔  دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ باعتبار اکثرافراد کے ہے کہ اکثر افراد فرشتوں کے اکثر آدمیوں بلکہ اکثر مومنوں سے افضل ہیں گو خاص مومن جیسے انبیاء علیہم السلام سارے ہی فرشتوں سے افضل ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی وجوہ ہیں جن میں بحث طویل ہے

Post a Comment

Previous Post Next Post