Display4

نیکیاں دورکردیتی ہیں گناہوں کو

ابو عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں سلیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیساتھ ایک درخت کے نیچے تھا انہوں نے اس درخت کی ایک خشک ٹہنی پکڑ کر اس کو حرکت دی جس سے اس کے پتے گر گئے پھر مجھ سے کہنے لگے کہ ابو عثمان تم نے مجھ سے یہ نہ پوچھا کہ میں نے یہ کیوں کیا ۔

میں نے کہا بتا دیجیے کیوں کیا انہوں نے کہا کہ میں ایک دفعہ نبی اکرمﷺکے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا آپؐ نے بھی درخت کی ایک خشک ٹہنی پکڑ کر اسی طرح کیا تھا جس سے اس ٹہنی کے پتے جھڑ گئے تھے پھر حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا کہ سلمان پوچھتے نہیں کہ میں نے اس طرح کیوں کیا میں نے عرض کیا کہ بتا دیجیے کیوں کیا۔

آپؐ نے ارشاد فرمایا تھا کہ جب مسلمان اچھی طرح سے وضو کرتا ہے پھر پانچوں نمازیں پڑھتا ہے تو اس کی خطائیں اس سے ایسی ہی گر جاتی ہیں جیسے یہ پتے گرتے ہیں پھر آپؐ نے قرآن کی آیت تلاوت فرمائی جس کا ترجمہ یہ ہے کہ قائم کر نماز کو دن کے دونوں سروں میں اور رات کے کچھ حصوں میں بیشک نیکیاں دور کر دیتی ہیں گناہوں کو یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کے لئے

حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو عمل کر کے دکھلایا یہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمَعین کے تعشق کی ادنیٰ مثال ہے۔ جب کسی شخص کو کسی سے عشق ہوتا ہے اس کی ہر ادا بھاتی ہے اور اسی طرح ہر کام کے کرنے کو جی چاہا کرتا ہے جس طرح محبوب کو کرتے دیکھتا ہے۔ جو لوگ محبت کا ذائقہ چکھ چکے ہیں وہ اسکی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نبی کریم ﷺکے ارشادات نقل کرنے میں اکثر ان افعال کی بھی نقل کرتے تھے جو اس ارشاد کے وقت حضورؐ نے کئے تھے۔ نماز کا اہتمام اور اس کی وجہ سے گناہوں کا معاف ہونا جس کثرت سے روایات میں ذکر کیا گیا ہے اس کا احاطہ دشوار ہے۔ پہلے بھی متعدد روایات میں یہ مضمون گذر چکا ہے علما ء نے اس کو صغیرہ گناہوں کے ساتھ مخصوص کیا ہے جیسا پہلے معلوم ہو چکا۔ مگر احادیث میں صغیرہ کبیرہ کی کچھ قید نہیں ہے مطلق گناہوں کا ذکر ہے۔ میرے والد صاحب ؒ نے تعلیم کے وقت اس کی دو وجہیں ارشاد فرمائی تھیں۔ ایک یہ کہ مسلمان کی شان سے یہ بعید ہے کہ اس کے ذمہ کوئی کبیرہ ہو۔ اولاً تو اس سے گناہ کبیرہ کا صادر ہونا ہی مشکل ہے اور اگر ہو بھی گیا بغیر توبہ کے اس کو چین آنا مشکل ہے۔ مسلمان کی مسلمانی شان کا مقتضٰی یہ ہے کہ جب اس سے کبیرہ صادر ہو جائے تواتنے تو پیٹ کر اس کو دھو نہ لے اس کو چین نہ آئے۔ البتہ صغیرہ گناہ ایسے ہیں کہ ان کی طرف بسا اوقات التفات نہیں ہوتا ہے اور ذمہ پر رہ جاتے ہیں جو نماز وغیرہ سے معاف ہو جاتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جو شخص اخلاص سے نماز پڑھے گا اور آداب و مستحبات کی رعایت رکھے گا، وہ خو دہی نہ معلوم کتنی مرتبہ توبہ استغفار کرےگا۔ اور نماز میں التحیات کی اخیر دعامیں تو توبہ و استغفار خو د ہی موجود ہے۔

ان روایات میں وضو کو بھی اچھی طرح سےکرنے کا حکم ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے آداب و مستحبات کی تحقیق کر کے ان کا اہتمام کرےمثلاًایک سنت اس کی مسواک ہی ہے جس کی طرف عام طور پر بے توجہی ہے حالانکہ حدیث میں وارد ہے کہ مسواک کا اہتمام کیا کرو۔ اس میں دس فائدے ہیں۔

منہ کو صاف کرتی ہے

اللہ کی رضا کا سبب ہے

شیطان کو غصہ دلاتی ہے

مسواک کرنے والے کو اللہ تعالیٰ محبوب رکھتے ہیں  اورفرشتےمحبوب رکھتے ہیں

مسوڑھوں کو قوت دیتی ہے

بلغم کو قطع کرتی ہے

منہ میں خوشبو پیدا کرتی ہے

صفرا کو دور کرتی ہے

نگاہ کو تیز کرتی ہے

منہ کی بدبو کو زائل کرتی ہے اور اس سب کے علاوہ یہ ہے کہ سنت ہے۔(منبہات ابن حجرؒ) علماء نے لکھا ہے کہ مسواک کے اہتمام میں ستر (70)فائدے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ مرتے وقت کلمہ شہادت پڑھنا نصیب ہوتاہے اور اس کے بالمقابل افیون کھانے میں ستر(70) مضرتیں ہیں جن میں سے ایک یہ کہ مرتے وقت کلمہ یاد نہیں آتا۔ اچھی طرح وضو کرنے کے فضائل احادیث میں بڑی کثرت سے آئے ہیں۔

وضو کے اعضاء قیامت کے دن روشن اور چمک دار ہوں گےاور اس سے حضورﷺفوراًاپنے امتی کو پہچان جائیں گے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post