Display4

حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسلام اور مصائب
حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مشہور صحابی ہیں جو مسجدِ نبوی کے ہمیشہ مؤذن رہے۔ شروع میں ایک کا فر کے غلام تھے۔ اسلام لے آئے جس کی وجہ سے طرح طرح کی تکلیفیں دیئے جاتے تھے۔ اُمیہ بِن خَلف جو مسلمانوں کا سخت دشمن تھا ان کو سخت گرمی میں دوپہر کے وقت تپتی ہوئی ریت پر سیدھا لٹا کر ان کے سینے پر پتھر کی بڑی چٹان رکھ دیتا تھا تاکہ وہ حرکت نہ کر سکیں اور کہتا تھا کہ یا اس حال میں مر جائیں اور زندگی چاہیں تو اسلام سے ہٹ جائیں مگر وہ اس حالت میں بھی اَحَد اَحَد کہتے تھے یعنی معبود ایک ہی ہے۔ رات کو زنجیروں میں باندھ کر کوڑے لگائے جاتے اور اگلے دن ان زخموں کو گرم زمین پر ڈال کر اور زیادہ زخمی کیا جاتا تاکہ بےقرار ہو کر اسلام سے پھر جاویں یا تڑپ تڑپ کر مر جائیں۔
عذاب دینے والے اکتا جاتے۔ کبھی ابو جہل کا نمبر آتا،کبھی اُمیہ بن خلف کا، کبھی اوروں کا، ہر شخص اس کی کوشش کرتا کہ تکلیف دینے میں زور ختم کر دے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حالت میں دیکھا تو اُن کو خرید کر آزاد کر دیا۔
ف:چونکہ عرب کے بت پرست اپنے بتوں کو بھی معبود کہتے تھے۔ اس لئے اُن کے مقابلہ میں اسلام کی تعلیم توحید کی تھی، جس کی وجہ سے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان پر ایک ہی ہے کا ورد تھا۔ یہ تعلق اور عشق کی بات ہے ہم جھوٹی محبتوں میں دیکھتے ہیں کہ جس سے محبت ہوجاتی ہے اس کا نام لینے میں لُطف آتا ہے۔ بے فائدہ اس کو رٹا جاتاہے تو اللہ کی محبت کا کیا کہنا جو دین اور دنیا دونوں جگہ کام آنے والی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہر طرح سے ستایا جاتاتھا۔ سخت سے سخت تکلیفیں پہنچائی جاتی تھیں۔ مکہ کے لڑکوں کے حوالہ کر دیا جاتا کہ وہ اُن کو گلی کوچوں میں چکر دیتے پھریں اور یہ تھے کہ "ایک ہی ایک ہے" کی رٹ لگاتے تھے۔
اسی کا یہ صلہ ملا کہ پھر حضورﷺ کے دربار میں مؤذن بنے اور سفر حضر میں ہمیشہ آذان کی خدمت اُن کے سپرد ہوئی۔ حضورؐ کے وصال کے بعد مدینہ طیبہ میں رہنااور حضورؐکی جگہ کو خالی دیکھنا مشکل ہو گیا۔ اس لئے ارادہ کیا کہ اپنی زندگی کے جو دن ہیں جہاد میں گزار دوں اس لئے جہاد میں شرکت کی نیت سے چل دئیے۔ایک عرصہ تک مدینہ منورہ لوٹ کر نہیں آئے۔
ایک مرتبہ حضورؐ کی خواب میں زیارت کی۔حضورؐ نے فرمایا بلال یہ کیا ظلم ہے ہمارے پاس کبھی نہیں آتےتو آنکھ کھلنے پر مدینہ طیبہ حاضر ہوئے۔ حضرت حسن ،حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم نےآذان کی فرمائش کی۔لاڈلوں کی فرمائش ایسی نہیں تھی کہ انکار کی گنجائش ہوتی۔ آذان کہنا شروع کی اور مدینہ میں حضورؐ کے زمانہ کی آذان کانوں میں پڑ کر کہرام مچ گیا۔ عورتیں تک روتی ہوئی گھر سے نکل پڑیں۔ چند روز قیام کے بعد واپس ہوئے اور 20ہجری کے قریب دمشق میں وصال ہوا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post