Display4

تین چیزیں قیامت کے دن عرش کے نیچے ہوں گی
عبدالرحمٰن بن عوف حضور اقدسﷺسے نقل کرتے ہیں کہ تین چیزیں قیامت کے دن عرش کے نیچے ہوں گی ایک کلام پاک کہ جھگڑے گا بندوں سے، قرآن پاک کے لئے ظاہر ہے اور باطن، دوسری چیز امانت ہے اور تیسری رشتہ داری جو پکارے گی کہ جس شخص نے مجھ کو جوڑا اللہ اس کو اپنی رحمت سے ملاوے اور جس نے مجھ کو توڑا، اللہ اپنی رحمت سے اس کو جُدا کرے۔
ان چیزوں کے عرش کے نیچے ہونے سے مقصود اُن کا کمالِ قرب ہے یعنی حق سبحانہ و تقدس کے عالی دربار میں بہت ہی قریب ہوں گی۔کلام اللہ شریف کے جھگڑنے کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس کی رعایت کی، اس کا حق ادا کیا، اس پر عمل کیا، ان کی طرف سے درباد حق سبحانہ میں جھگڑے گا اور شفاعت کرے گا، ان کے درجے بلند کرائے گا۔ مُلا علی قاریؒ نے بروایت ترمذی نقل کیا ہے کہ قرآن شریف بارگاہِ الٰہی میں عرض کرے گا کہ اس کو جوڑا مرحمت فرمائیں تو حق تعالیٰ شانہ کرامت کا تاج مرحمت فرماویں گے۔ پھر وہ زیادتی کی درخواست کرے گا۔ تو حق تعالیٰ شانہ اکرام کا پورا جوڑا مرحمت فرماویں گے۔ پھر وہ درخواست کرے گا کہ یا اللہ آپ اس شخص سے راضی ہو جائیں تو حق سبحانہ وتقدس اس سے رضا کا اظہار فرماویں گے۔
اور جب کہ دنیا میں محبوب کی رضا سے بڑھ کر کوئی بھی بڑی سے بڑی نعمت نہیں ہوتی تو آخرت میں محبوب کی رضا کا مقابلہ کون سی نعمت کر سکتی ہے اور جن لوگوں نے اس کی حق تلفی کی ہے اُن سے اس بارے میں مطالبہ کرے گا کہ میری کیا رعایت کی، میرا کیا حق ادا کیا۔ شرح احیاء میں امام صاحبؒ سے نقل کیا گیا ہے کہ سال میں دو مرتبہ ختم کرنا قرآن شریف کا حق ہے۔ اب وہ حضرات جو کبھی بھول کر بھی تلاوت نہیں کرتے ذرا غور فرمالیں کہ اس قوی مقابل کے سامنے کیا جواب دہی کریں گے۔موت بہر حال آنے والی چیز ہے اس سے کسی طرح مفرنہیں۔
قرآن شریف کے ظاہر اور باطن ہونے کا مطلب ظاہر یہ ہے کہ ایک ظاہری معنی ہیں جن کو ہر شخص سمجھتا ہے اور ایک باطنی معنی ہیں جن کو ہر شخص نہیں سمجھتا۔ جس کی طرف حضور اقدسﷺ کے اس ارشاد نے اشارہ کیا ہے کہ جو شخص قرآن پاک میں اپنی رائے سے کچھ کہے اگر وہ صحیح بھی ہو تب بھی اس شخص نے خطا کی۔
بعض مشائخ نے ظاہر سے مراد اس کے الفاظ فرمائے ہیں کہ جن کی تلاوت میں ہر شخص برابر ہے اور باطن سے مراداس کے معنی اور مطالب ہیں جو حسبِ استعداد مختلف ہوتے ہیں۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ اگر علم چاہتے ہو تو قرآن پاک کے معنی میں غوروفکر کرو کہ اس میں اولین اور آخرین کا علم ہے مگر کلام پاک کے معنی کے لئےجو شرائط و آداب ہیں ان کی رعایت ضروری ہے۔ یہ نہیں کہ ہمارے زمانے کی طرح سے جو شخص عربی کے چند الفاظ کے معنی جان لے بلکہ اس سے بھی بڑھ کربغیر کسی لفظ کے معنی جانےاُردو ترجمے دیکھ کر اپنی رائے کو اس میں داخل کر دے۔
اہلِ فن نے تفسیر کے لئے پندرہ عُلوم پر مہارت ضروری بتلائی ہے وقتی ضرورت کی وجہ سے مختصراً عرض کر تا ہوں جس سے معلوم ہو جاوے گا کہ بطنِ کلامِ پاک تک رسائی ہر شخص کو نہیں ہو سکتی۔اول لُغت جس سے کلام پاک کے مفرد الفاظ کے معنی معلوم ہوجاویں۔
مجاہدؒ کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ پر اور قیامت  کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو جائز نہیں کہ بدونِ معرفت لُغاتِ عرب کے کلام پاک میں کچھ لب کشائی کرے اور چند لُغات کا معلوم ہوجاناکافی نہیں اس لئے کہ بسا اوقات لفظ چند معانی میں مشترک ہوتا ہے اور وہ ان میں سے ایک دو معنی جانتا ہےاور فی الواقع اس جگہ کوئی اور معنی مراد ہوتے ہیں۔
دوسرے نحو کا جاننا ضروری ہے اس لئے کہ اعراب کے تغیر وتبدل سے معنی بالکل بدل جاتے ہیں اور اعراب کی معرفت نحو پر موقوف ہے۔
 تیسرے صرف کا جاننا ضروری ہےاس لئے کہ بنا اور صیغوں کے اختلاف سے معانی بالکل مختلف ہو جاتے ہیں۔
ابن فارسؒ کہتے ہیں کہ جس شخص سے علمِ صرف فوت ہو گیا اس سے بہت کچھ فوت ہو گیا۔علامہ زمخشریؒ اُعجوباتِ تفسیر میں نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کلامِ پاک کی آیت یوم ندعو کل اناس بامامھہم ترجمہ(جس دن کہ پکاریں گے ہم ہر شخص کو اس  کے مقتدا اور پیش روکے ساتھ)اس کی تفسیر صرف کی ناواقفیت ک وجہ سے یہ کی کہ جس دن پکاریں گے ہر شخص کو اُن کی ماؤں کے ساتھ۔ امام کا لفظ جو منفرد تھا اس کو اُم کی جمع سمجھ گیا۔ اگر وہ صرف سے واقف ہوتا تو معلوم ہو جاتا کہ اُم کی جمع امام نہیں آتی۔
چوتھےاشتقاق کا جانناضروری ہے اس لئے کہ لفظ جب کہ دو مادوں سے مشتق ہو تو اُس کے معنی مختلف ہوں گے جیسا کہ مسیح کا لفظ ہے کہ اس کا اشتقاق مَسح سے بھی ہے جس کے معنی چھونے اور تر ہاتھ کسی چیز پر پھیرنے کے ہیں اور مَساحت سے بھی ہے جس کے معنی پیمائش کے ہیں۔
پانچویں علم  معانی کا جاننا بھی ضروری ہے جس سے کلام کی برکتیں معنی کے اعتبار سے معلوم ہوتی ہیں۔
چھٹے علم بیان کا جاننا ضروری ہےجس سے کلام کا ظہوروخفا، تشبیہ و کنایہ معلوم ہوتا ہے۔
ساتویں علم بدیع جس سے کلام کی خوبیاں تعبیر کے اعتبار سے معلوم ہوتی ہیں۔ یہ تینوں فن علمِ بلاغت کہلاتے ہیں۔مفسر کے اہم علوم میں سے ہیں، اس لئے کہ کلام پاک جو سراسر اعجاز ہےاس سے اس کا اعجاز معلوم ہوتا ہے۔
آٹھویں علم قراءت کا جاننا بھی ضروری ہے اس لئے کہ مختلف قراءتوں کی وجہ سےمختلف معنی معلوم ہوتے ہیں اور بعض معنی کی دوسرے معنی پر ترجیح معلوم ہو جاتی ہے۔
نویں علم عقائد کا جاننا بھی ضروری ہےاس لئے کہ کلام پاک میں بعض آیات ایسی بھی ہیں جن کے ظاہری معنی کا اطلاق حق سبحانہ وتقدس پر صحیح نہیں اس لئے ان میں کسی تاویل کی ضرورت پڑ ے گی جیسے کہ یدُاللہ فَوقَ اَیدیھم
دسویں اصولِ فقہ کا معلوم ہونا بھی ضروری ہے جس سے وجوہ ِاستدلال و اِستنباط معلوم ہو سکیں ۔
گیارھویں اسباب نزول کا معلوم ہونا بھی ضروری ہےکہ شانِ نزول سے آیت کے معنی زیادہ واضح ہوں گے اور بسا اوقات اصل معنی کا معلوم ہونا بھی شانِ نزول پر موقوف ہوتا ہے۔
بارھویں ناسخ و منسوخ کا معلوم ہونا بھی ضروری ہے تاکہ منسوخ شدہ احکام"معمولِ بہا" سے ممتاز ہوسکیں۔
تیرھویں علمِ فقہ کا معلوم ہو نا بھی ضروری ہے کہ جزئیات کے احاطہ سے کلیات پہچانے جاتے ہیں۔
چودھویں ان احادیث کا جاننا بھی ضروری ہے جو قرآن پاک کی مجمل آیات کی تفسیر واقع ہوئی ہیں۔
ان سب کے بعد پندرھواں وہ علم وہبی ہے جو حق سبحانہ و تقدس کا عطیہ خاص ہے اپنے مخصوص بندوں کو عطا فرماتا ہے جس کی طرف اس حدیث شریف میں اشارہ ہے۔(جب کہ بندہ اس چیز پر عمل کرتا ہے جس کو جانتا ہے تو حق تعالیٰ شاُنہ ایسی چیزوں کا علم عطا فرماتے ہیں جن کو وہ نہیں جانتا)۔
اسی کی طرف حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اشارہ فرمایا جب کہ اُن سے لوگوں نے پوچھا کہ حُضور اکرمﷺ نے آپ کو کچھ خاص علوم عطا فرمائے ہیں یا خاص و صایا جو عام لوگوں کے علاوہ آپ کے ساتھ مخصوص ہیں۔ انہوں نے فرمایا قسم ہے اس ذات  پاک کی جس نےجنت بنائی اور جان پیدا کی، اس فہم کے علاوہ کچھ نہیں ہے جس کو اللہ تعالیٰ شاُنہ نے اپنے کلامِ پاک کے سمجھنے کے لئے کسی کو عطا فرمادیں۔
ابن ابی الدنیا  کا مقولہ ہے کہ علومِ قرآن اور جو اس سے حاصل ہو وہ ایسا سمندر ہے کہ جس کا کنارہ نہیں یہ علوم جو بیان کیے گئے ہیں مفسر کے لئے بطور آلہ کے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان علوم کی واقفیت بغیر تفسیر کرےتو وہ تفسیر بالرائے میں داخل ہے جس کی ممانعت آئی ہے۔صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے لئے علوم عربیہ طبعاً حاصل تھے اور بقیہ علم مشکوٰۃِ نبوت سے مُستفاد تھے۔علامہ سیوطیؒ کہتے ہیں کہ شاید تجھے یہ خیال ہو کہ علم وہبی کا حاصل کرنا بندہ کی قدرت سے باہر ہے لیکن حقیقت ایسی نہیں بلکہ اس کے حاصل کرنے کا طریقہ ان اسباب کا حاصل کرنا ہےجس پر حق تعالیٰ شانہ اس کو مرتب فرماتے ہیں مثلاً علم پر عمل اور دنیا سے بے رغبتی وغیرہ وغیرہ۔
کیمیائے سعادت میں لکھا ہے کہ قرآن شریف کی تفسیر تین شخصوں پر ظاہر نہیں ہوتی۔ اول وہ جو علوم عربیہ سے واقف نہ ہو۔ دوسرے وہ شخص جو کسی کبیرہ پر مُصر ہو یا بدعتی ہو کہ اس گنا ہ اور بدعت کی وجہ سے اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے معرفتِ قرآن سے قاصر رہتا ہے۔تیسرے وہ شخص کہ کسی کا اعتقادی مسئلہ میں ظاہر کا قائل ہو اور کلامُ اللہ کی جو عبارت اس کے خلاف ہو اس سے طبیعت اچٹتی ہو، اس شخص کو بھی فہم قرآن سے حصہ نہیں ملتا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post