Display4

دو اور تین اور چار آیات کا ثواب
عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ بنی کریم ﷺ تشریف لائے۔ ہم لوگ صفہ میں بیٹھے تھے۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم میں سے کون شخص اس کو پسند کرتا ہے کہ علی الصبح بازار بُطحان یا عقیق میں جاوے اور دو اونٹنیاں عمدہ سے عمدہ بلا کسی قسم کے گناہ اور قطع رحمی کے پکڑ لائے۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا کہ اس کو تو ہم میں سے ہر شخص پسند کرے گا۔ حضور ﷺنے فرمایا کہ مسجد میں جا کر دو آیتوں کا پڑھنا یا پڑھا دینا دو اونٹنیوں سے اور تین آیا ت کا تین اونٹنیوں سےاسی طرح چار کا چارسے افضل ہے اور ان کے برابر اونٹوں سے افضل ہے۔
صفہ مسجد نبوی میں ایک خاص معین چبوترہ کا نام ہے جو فقراء مہاجرین کی نشست گاہ تھی، اصحاب صفہ کی تعداد مختلف اوقات میں کم و بیش ہوتی رہتی تھی۔ علامہ سیوطیؒ نے ایک سو ایک نام گنوائے ہیں اور مستقل رسالہ ان کے اسماءگرامی میں تصنیف کیا ہے ۔ بطحان اور عقیق مدینہ طیبہ کے پاس دو جگہ ہیں جہاں اونٹوں کا بازار لگتا تھا۔ عرب کے نزدیک اونٹ نہایت پسندیدہ چیز تھی بالخصوص وہ اونٹنی جس کا کوہان فربہ ہو۔ بغیر گناہ کا مطلب یہ ہے کہ بے محنت چیز اکثریا چھین کر کسی سے لی جاتی ہے یا یہ کہ میراث وغیرہ میں کسی رشتہ دارکے مال پر قبضہ کر لے یا کسی کا مال چُرا لے۔
اس لیے حضور اکرم ﷺ نے ان سب کی نفی فرما دی کہ بالکل بلا مشقت اور بدون کسی گناہ کے حاصل کر لینا جس قدر پسندیدہ ہے اس سے زیادہ بہتر و افضل ہے چند آیات کا حاصل کر لینا۔اور یہ یقینی امر ہے کہ ایک دو اونٹ درکنارہفت اقلیم کی سلطنت بھی اگر کسی کو مل جاوے تو کیا، آج نہیں تو کل موت اس سے جبراًجدا کردے گی لیکن ایک آیت کا اجر ہمیشہ کے لیے ساتھ رہنے والی چیز ہے۔ دنیا ہی میں دیکھ لیجئے کہ آپ کسی شخص کو ایک روپیہ عطا فرما دیجئے اس کی اس کو مسرت ہو گی بمقابلہ اس کے کہ ایک ہزار روپیہ اس کے حوالے کر دیں کہ اس کو اپنے پاس رکھ لے میں ابھی واپس آ کر لے لوں گا کہ اس صورت میں بجز اس پر بار امنت کے اور کوئی فائدہ اس کو حاصل نہیں ہو گا۔ درحقیقت اس حدیث شریف میں فانی و باقی کے تقابل پر تنبیہ بھی مقصود ہے کہ آدمی اپنی حرکت و سکون پر غور کرے کہ کسی فانی چیز پراُس کو ضائع کرر ہا ہوں یا باقی رہنے والی چیز پر، اور پھرحسرت ہے اُن اوقات پر جو باقی رہنے والا وبال کماتے ہوں۔
حدیث کا اخیر جملہ اور "ان کے برابر اونٹوںسے افضل ہے" تین مطالب کا محتمل ہے ۔اول یہ کہ چار کے عدد تک بالتفصیل ارشاد فرمایا اور اس کے مافوق کو اجمالاً فرما دیا کہ جس قدر آیات کوئی شخص حاصل کرے گا اس کے بقدر اونٹوں سے افضل ہے۔ اس صورت میں اونٹوں سے جنس مراد ہےخواہ اونٹ ہوں یا اونٹنیاں۔ اور بیان ہے چار سے زیادہ کا اس لیے کہ چار تک کا ذکر خود تصریحاً مذکور ہو چکا ۔
دوسرا مطلب یہ کہ انہیں اعداد کا ذکر ہے جو پہلے مذکور ہو چکے، اور مطلب یہ ہے کہ رغبات مختلف ہوا کرتی ہیں۔ کسی کو اونٹنی پسند ہے تو کوئی اونٹ کا گرویدہ ہے۔ اس لیے حضورﷺنے اس لفظ سے یہ ارشاد فرمایا کہ ہر آیت ایک اونٹنی سے بھی افضل ہے۔ اور اگر کوئی شخص اونٹ سے محبت رکھتا ہوتو ایک آیت ایک اونٹ سے بھی افضل ہے۔
تیسرا مطلب یہ ہے کہ یہ بیان انہی اعداد کا ہے جو پہلے ذکر کئے گئے چار سے زائد کا نہیں ہے۔ مگر دوسرے مطلب میں جو تقریر گذری کہ ایک اونٹنی یا ایک اونٹ سے  افضل ہے یہ نہیں بلکہ مجموعہ مراد ہے کہ ایک آیت ایک اونٹ اور ایک اونٹنی دونوں کے مجموعہ سے افضل ہے تو گویا فی آیت کا مقابلہ ایک جوڑا سے ہوا۔
میرے والد صاحب نوراللہ مرقدہ نے اسی مطلب کو پسند فرمایا ہے کہ اس میں فضیلت کی زیادتی ہے۔ اگرچہ یہ مراد نہیں کہ ایک آیت کا اجر ایک اونٹ یا دواونٹ کا مقابلہ کر سکتا ہے یہ صرف تنبیہ اور تمثیل ہے۔ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ ایک آیت جس کا ثواب دائمی اور ہمیشہ رہنے والا ہے ہفت اقلیم کی بادشاہت سے جو فنا ہو جانے والی ہے افضل اور بہتر ہے۔
مُلاعلی قاریؒ نے لکھا ہے کہ ایک بزرگ کے بعض تجارت پیشہ احباب نے اُن سے درخواست کی کہ جہاز سے اترنے کے وقت حضرت جدہ تشریف فرما ہوں تاکہ جناب کی برکت سے ہمارے مال میں نفع ہو ااور مقصود یہ تھا کہ تجارت کے منافع سے حضرت کے بعض خدام کو کچھ نفع حاصل ہو۔اول تو حضرت نے عذر فرمایا مگر جب انھوں نے اصرار کیا تو حضرت نے دریافت فرمایا کہ تمھیں زائد سے زائد جو نفع مالِ تجارت میں ہوتا ہے وہ کیا مقدار ہے۔ انھوں نے عرض کیا کہ مختلف ہوتا ہےزائد سے زائد ایک کے دو ہو جاتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا کہ اس قلیل نفع کے لیے اس قدر مشقت اٹھاتے ہو۔ اتنی سی بات کے لیے ہم حرم محترم کی نماز کیسے چھوڑ دیں جہاں ایک کے لاکھ ملتے ہیں۔
درحقیقت مسلمانوں کے غور کرنے کی جگہ ہے کہ وہ ذرا سی دُنیوی متاع کی خاطر کس قدر دینی منافع کو قربان کر دیتے ہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post