Display4

تلاوت کی برکت اور کلام اللہ کی فضیلت
ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضور اکرمﷺکا ارشاد منقول ہے کہ حق سبحانہ وتقدس کا یہ فرمان ہے کہ جس شخص کو قرآن شریف کی مشغولی کی وجہ سے ذکر کرنے اور دعائیں مانگنے کی فرصت نہیں ملتی میں اس کو سب دعائیں مانگنے والوں سے زیادہ عطا کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ شاُنہ کے کلام کو سب کلاموں پر ایسی ہی فضیلت ہے جیسی کہ خود حق تعالیٰ شاُنہ کوتمام مخلوق پر۔
کلام اللہ شریف معبود کا کلام ہے۔ محبوب و مطلوب کے فرمودہ الفاظ ہیں۔یعنی جس شخص کو قرآن پاک کے یاد کرنے یا جاننے اور سمجھنے میں اس درجہ مشغولی ہے کہ کسی دوسری دعا وغیرہ کے مانگنے کا وقت نہیں ملتا، میں دُعا مانگنے والوں کے مانگنے سے بھی افضل چیز اس کو عطا کروں گا۔ دنیا کا مشاہدہ ہے کہ جب کوئی شخص شیرینی وغیرہ تقسیم کر رہا ہو اور کوئی مٹھائی لینے والا اس کے ہی کام میں مشغول ہو اور اس کی وجہ سے نہ آسکتا ہو تو یقیناً اس کا حصہ پہلے ہی نکال لیا جاتا ہے۔ ایک دوسری حدیث میں اسی موقعہ پر مذکور ہے کہ میں اس کو شکر گزار بندوں کے ثواب سے افضل ثواب عطا کروں گا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post