Display4

اللہ کاذکر کرنے والوں کو فرشتوں کا گھیر لینا
حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنھم دونوں حضرات اس کی گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے حُضورﷺسے سُنا، ارشاد فرماتے تھے کہ جو جماعت اللہ کے ذکر میں مشغول ہو فرشتے اس جماعت کو سب طرف سے گھیر لیتے ہیں اور رحمت اُن کو ڈھانپ لیتی ہے اور سکینہ اُن پر نازل ہوتی ہے اور اللہ جل شاُنہ اُن کا تذکرہ اپنی مجلس میں (تفاخرکے طور پر)فرماتے ہیں۔
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺکا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ میں تجھے اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں کہ تمام چیزوں کی جڑ ہے اور قرآن شریف کی تلاوت اور اللہ کے ذکر کا اہتمام کر کہ اس سے آسمانوں میں تیرا ذکر ہو گا اور زمین میں نور کا سبب بنے گا۔ اکثر اوقات چپ رہا کر کہ بھلائی بغیر کوئی کلام نہ ہو۔ یہ بات شیطان کو دور کرتی ہے اور دین کے کاموں میں مدد گار ہوتی ہے۔زیادہ ہنسی سے بھی بچتا رہ کہ اس سے دل مر جاتاہے اور چہرہ کا نور جاتا رہتا ہے۔ جہاد کرتے رہنا کہ میری اُمت کی فقیری یہی ہے مسکینوں سے محبت رکھناان کے پاس اکثر بیٹھتے رہنا اور اپنے سے کم حیثیت لوگوں پر نگاہ رکھنا اور اپنے سے اونچےلوگوں پر نگاہ نہ کرنا کہ اس سے اللہ کی ان نعمتوں کی ناقدری پیدا ہوتی ہے جو اللہ نے تجھے عطا فرمائی ہیں۔ قرابت والوں سے تعلقات جوڑنے کی فکر رکھنا وہ اگرچہ تجھ سے تعلقات توڑ دیں۔ حق بات کہنے میں تردد نہ کرنا گو کسی کو کڑوی لگے۔ اللہ کے معاملہ میں کسی کی مَلامت کی پرواہ نہ کرنا ۔تجھے اپنے عیب بینی دوسروں کے عیوب پر نظر نہ کرنے دے اور جس عیب میں خود مبتلا ہو اس میں دوسرے پر غصہ نہ کرنا۔ اے ابوذر حُسنِ تدبیر سے بڑھ کر کوئی عقل مندی نہیں اور ناجائز امور سے بچنا بہترین پرہیزگاری ہے اور خوش خلقی کے برابر کوئی شرافت نہیں۔
سکینہ کے معنی سُکون و وَقار کے ہیں یا کسی مخصوص رحمت کے جس کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں۔ امام نَوَوِی ؒ فرماتے ہیں کہ یہ کوئی ایسی مخصوص چیز ہے جو طمانیت، رحمت وغیرہ سب کو شامل ہے اورملائکہ کےساتھ اترتی ہے۔
حق تعالیٰ شاُنہ کا ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے تفاخر کے طور پر فرمانا ایک تو اس وجہ سے ہے کہ فرشتوں نے آدم علیہ السلام کی پیدائش کے وقت عرض کیا تھا کہ یہ لوگ دنیامیں فساد کریں گے۔دوسرے اس وجہ سے ہے کہ فرشتوں کی جماعت اگرچہ سراپا عبادت، سراپا بندگی و اطاعت ہےلیکن ان میں معصیت کا مادہ بھی نہیں ہے اور انسان میں چونکہ دونوں مادے موجود ہیں۔ا ور غفلت اور نافرمانی کے اسباب اس کو گھیرے ہوئے ہیں۔ شہوتیں، لذتیں اس کا جزو ہیں اس لئے اس سے ان سب کے مقابلہ میں جو عبادت جو اطاعت ہو اور جو معصیت کا مقابلہ ہو وہ زیادہ قابل مداح اور قابل قدر ہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ جب حق تعالیٰ شاُنہ نے جنت کو بنایا تو حضرت جبرائیل ؑ کوارشاد ہوا کہ اس کو دیکھ کر آؤ ۔ انھوں نے آ کر عرض کیا۔ یا اللہ آپ کی عزت کی قسم جو شخص بھی اس کی خبر سُن لے گا اس میں جائے بغیر نہیں رہے گایعنی لذتیں اور راحتیں، فرحتیں، تعمتیں جس قدر اس میں رکھی گئی ہیں اُن کے سننے اور یقین آجانے کے بعد کون ہو گاجو اس میں جانے کی انتہائی کوشش نہ کرےگا۔ اس کے بعد حق تعالیٰ شاُنہ نے اس کو مشقتوں سے ڈھانک دیا کہ نمازیں پڑھنا، روزے رکھنا، جہاد کرنا، حج کرنا وغیرہ وغیرہ اس پر سوار کردیے گئے کہ ان کو بجا لاؤتوجنت میں جاؤ۔اور پھر حضرت جبرائیل ؑکو ارشاد ہوا کہ اب دیکھو۔انھوں نے عرض کیا کہ اب تویا اللہ مجھے یہ اندیشہ ہےکہ کوئی اس میں جا ہی نہ سکے گا۔
اسی طرح جب جہنم کو بنایا تو حضرت جبرائیل ؑ کو اس کے دیکھنے کا حکم ہوا۔وہاں کے عذاب ، وہاں کے مصائب، گندگیاں اور تکلیفیں دیکھ کر انھوں نے عرض کیاکہ یا اللہ آپ کی عزت کی قسم جو شخص ا س کے حالات سن لے گا کبھی بھی اس کے پاس نہ جائے گاحق سبحانہ وتقدس نے دنیا کی لذتوں سے اس کو ڈھانک دیا ہے کہ زنا کرنا، شراب پینا، ظلم کرنا، احکام پر عمل نہ کرناوغیرہ وغیرہ کا پردہ اس پر ڈال دیا گیا ہے۔ پھر ارشاد ہوا ا ب دیکھو۔انہوں نے عرض کیا یا اللہ اب تو مجھے اندیشہ ہو گیا کہ شایدہی کوئی اس سے بچے۔
اسی وجہ سے جب کوئی بندہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے، گناہ سے بچتا ہے تو اس ماحول کے اعتبار سےجس میں وہ ہے قابل قدر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے حق تعالیٰ شاُنہ اظہار ِ مُسرت فرماتے ہیں۔جن فرشتوں کا اس حدیث پاک میں اور اس قسم کی بہت سی حدیثوں میں ذکر آیا ہے وہ فرشتوں کی ایک خاص جماعت ہے جو اسی کا پر متعین ہے کہ جہاں اللہ کےذکر کی مجالس ہوں، اللہ کا ذکر کیا جا رہا ہو وہاں جمع ہوں اس کو سنیں۔
چنانچہ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ فرشتوں کی ایک جماعت متفرق طور پر پھرتی رہتی ہے اور جس جگہ اللہ کا ذکر سُنتی ہے اپنے ساتھیوں کو آواز دیتی ہے کہ آجاؤ اس جگہ تمھارا مقصود اور غرض موجو د ہے اور پھر ایک دوسرے پر جمع ہوتے رہتے ہیں حتیٰ کہ آسمان تک اُن کا حلقہ پہنچ جاتا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post