Display4

بہترین اعمال اللہ کا ذکر ہیں
حضور اقدسﷺنے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے ارشاد فرمایا کیا میں تم کو ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمام اعمال میں بہترین چیز ہے اور تمھارے مالک کے نزدیک سب سے زیادہ پاکیزہ اور تمھارے درجوں کو بہت زیادہ بلند کرنے والی ہو اور سونے چاندی کو(اللہ کے راستہ میں)خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور (جہادمیں) تم دشمنوں کو قتل کر دو وہ تم کو قتل کردیں اس سے بھی بڑھی ہوئی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ضرور بتا دیں۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا اللہ کا ذکر ہے۔
یہ عام حالت اور ہر وقت کے اعتبار سے ارشاد فرمایا ہے ورنہ وقتی ضرورت کے اعتبار سے صدقہ جہاد وغیرہ امور سب سے افضل ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض احادیث میں ان چیزوں کی فضیلت بھی بیا ن فرمائی گئی ہے کہ ان کی ضرورتیں وقتی ہیں اور اللہ پاک کا ذکر دائمی چیز ہےاور سب سے زیادہ اہم اور افضل،ایک حدیث میں حضور اکرمﷺکا ارشاد ہےکہ ہرچیز کے لئے کوئی صاف کرنے والی اور میل کچیل دور کرنے والی چیز ہوتی ہے(مثلاً کپڑے اور بدن کے لئے صابون،لوہے کے لئے آگ کی بھٹی وغیرہ وغیرہ) دلوں کی صفائی کرنے والی چیز اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے اور کوئی چیز اللہ کے عذاب سے بچانے والی اللہ کے ذکر سے بڑھ کی نہیں ہے۔اس حدیث میں چونکہ ذکر کو دلوں کی صفائی کا ذریعہ اور سبب بتایا ہے اس سے بھی اللہ کے ذکرکا سب سے افضل ہونا ثابت ہوتا ہے اس لئے کہ ہرعبادت اسی وقت عبادت ہو سکتی ہےجب اخلاص سے ہو اور اس کا مدار دلوں کی صفائی پر ہے۔
اسی وجہ سے بعض صوفیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث میں ذکر سے مراد ذکرِقلبی ہے نہ کہ ذکرِزبانی، اور ذکر قلبی یہ ہے کہ دل ہر وقت اللہ کے ساتھ وابستہ ہو جائے اور اس میں کیا شک ہے کہ یہ حالت ساری عبادتوں سے افضل ہے۔ اس لئے کہ جب یہ حالت ہو جائے تو پھرکوئی عبادت چھوٹ ہی نہیں سکتی کہ سارے اعضاء اس کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ عشاق کے حالات سے کون بے خبر ہے، اور بھی بہت سی احادیث میں ذکر کا سب سے افضل ہونا وارد ہوا ہے۔
حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کسی نے پوچھا سب سے بڑا عمل کیا ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ تم نے قرآن شریف نہیں پڑھا۔ قرآن پاک میں ہےکوئی چیز اللہ کے ذکر سے افضل نہیں۔حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس آیت شریفہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے وہ اکیسویں پارے کی پہلی آیت ہے۔
صاحب مجالس الابرار کہتے ہیں کہ اس حدیث میں اللہ کے ذکر کو صدقہ اور جہاد اور ساری عبادات سے اس لئے افضل فرمایا کہ اصل مقصود اللہ کا ذکر ہے اور ساری عبادتیں اس کا ذریعہ اور آلہ ہیں اور ذکر بھی دوقسم کا ہوتاہے۔ایک زبانی اور ایک قلبی جوزبان سے بھی افضل ہےاور وہ مراقبہ اور دل کی سوچ ہےاور یہی مراد ہےاس حدیث سے جس میں آیا ہے کہ ایک گھڑی کا سوچنا70برس کی عبادت سے افضل ہے۔
مسنداحمد میں ہے حضرت سہیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور اقدسﷺسے نقل کرتے ہیں کہ اللہ کا ذکر اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے سے سات لاکھ حصہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ اس تقریر سے یہ معلوم ہو گیا کہ صدقہ اور جہاد وغیرہ جو وقتی چیزیں ہیں وقتی ضرورت کے اعتبار سے ان کی فضیلت بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ لہذا ان احادیث میں کو ئی اشکال نہیں جن میں ان چیزوں کی بہت زیادہ فضیلت وارد ہوئی ہےچانچہ ارشاد ہے کہ تھوڑی دیر کااللہ کے راستے میں کھڑا ہونا اپنے گھر پر 70سال کی نماز سے افضل ہے حالانکہ نماز بالاتفاق افضل ترین عبادت ہےلیکن کفار کے ہجوم کے وقت جہاد اس سے بہت زیادہ افضل ہو جاتا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post