Display4

تم میں سب سے بہتر شخص

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے حضور اقدس ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن شریف کو سیکھے اور سیکھائے۔

اکثر کتب میں یہ روایت واو کے ساتھ ہے جس کا ترجمہ لکھا گیا۔اس صورت میں فضیلت اس شخص کے لیے ہے جو کلام پاک سیکھے اور اس کے بعد دوسروں کو سکھائے۔

لیکن بعض کتب میں یہ روایت او کے ساتھ وارد ہوئی ہے اس صورت میں بہتری اور فضیلت عام ہو گی کہ خو د سیکھے یا دوسروں کو سکھائے، دونوں کے لیے مستقل خیر اور بہتری ہے۔

کلام پاک چونکہ اصل دین ہے اس کی بقاءواشاعت پر ہی دین کا مدارہے۔ اس لیے اس کے سیکھنے اور سکھانے کا افضل ہونا ظاہر ہے،کسی توضیح کا محتاج نہیں البتہ اس کی انواع مختلف ہیں۔کمال اس کا یہ ہے کہ مطالب و مقاصد سمیت سیکھےاور ادنیٰ درجہ اس کا یہ ہے کہ فقط الفاط سیکھے۔

نبی کریم ﷺ کا دوسرا ارشاد حدیث مذکورہ کی تائید کرتا ہے جو سعید بن سلیم سے مرسلاً منقول ہے کہ جو شخص قرآن شریف کو حاصل کرلےاور پھر کسی دوسرے شخص کو جو کوئی اور چیز عطا کیا گیا ہو  اپنے سے افضل سمجھے تو اس نے حق تعالیٰ شانہ کے اس انعام کی جو اپنے پاک کلام کی وجہ سے اس پر فرمایا ہے تحقیر کی ہے اور کھلی ہوئی بات ہے کہ جب کلام الہٰی سب کلاموں سے افضل ہے جیسا کہ مستقل احادیث میں آنے والا ہے تو اس کا پڑھنا یقیناً سب چیزوں سے افضل ہونا ہی چاہیے۔

ایک دوسری حدیث سے ملا علی قاری ؒ نے نقل کیا ہے کہ جس شخص نے کلام پاک کو حاصل کر لیا اس نے علوم نبوت کو اپنی پیشانی میں جمع کر لیا۔ سہل تستریؒ فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ شانہ سے محبت کی علامت یہ ہے کہ اس کے کلام پاک کی محبت قلب میں ہو

شرح احیا میں ان لوگوں کی فہرست میں جو قیامت کے ہولناک دن میں عرش کے سایہ کے نیچے رہیں گے، ان لوگوں کو بھی شما ر کیا  ہےجو بچپن میں قرآن شریف سیکھتے ہیں اور بڑے ہو کر اس کی تلاوت کا اہتمام کرتے ہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post