Display4

مسلمانوں کی موجودہ پستی کا واحد علاج
پارٹ 1
آج سے تقریباًچودہ سو قبل جب دنیا کفر و ضلالت، جہالت و سفاہت کی تاریکیوں میں گھری ہوئی تھی بطحا کی سنگلاخ پہاڑیوں سے رشد و ہدایت کا ماہتاب نمودار ہوا اور مشرق و مغرب،شمال و جنوب غرض دنیا کے ہر ہر گوشہ کو اپنے نور سے منور کیا اور 23 سال کے قلیل عرصہ میں بنی نوع انسان کو اس معراج ترقی پر پہنچایا کہ تاریخ عالم اس کی نظیرپیش کرنے سے قاصر ہے اور  رشدو ہدایت، صلاح وفلاح کی وہ مشعل مسلمانوں کے ہاتھ میں دی جس کی روشنی میں ہمیشہ شاہراہ ترقی پر گامزن رہے اور صدیوں اس شان و شوکت سے دنیا پر حکومت کی کہ ہر مخالف قوت کو ٹکرا کر پاش پاش ہونا پڑا ۔
یہ ایک حقیقت ہے جو ناقابل انکار ہے لیکن پھر بھی ایک پارینہ داستاں ہے جس کا بار بار دہرانا، نہ تسلی بخش ہے اور نہ کارآمد اور مفید، جب کہ موجودہ مشاہدات اور واقعات خود ہماری سابقہ زندگی اور ہمارے اسلاف کے کارناموں پر بدنما داغ لگا رہے ہیں۔
مسلمانوں کی تیرہ سو سالہ زندگی کو جب تاریخ کے اوراق میں دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم عزت و عظمت ، شان و شوکت، دبدبہ و حشمت کے تنہا مالک اور اجارہ دار ہیں لیکن جب ان اوراق سے نظر ہٹا کر موجودہ حالات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے تو ہم انتہائی ذلت و خواری، افلاس و ناداری میں مبتلا نظر آتے ہیں، نہ زوروقوت ہے، نہ زرودولت ہے ، نہ شان و شوکت ہے، نہ باہمی اخوت و الفت۔ نہ عادات اچھی، نہ اخلاق اچھے، نہ اعمال اچھے ،نہ کردار اچھے۔ ہر برائی ہم میں موجود اور ہر بھلائی سے کوسوں دور۔ اغیا رہماری اس زبوں حالی پر خوش ہیں اور برملا ہماری کمزوری کو اچھالا جاتا ہے اور ہمارا مضحکہ اڑایا جاتاہے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ خود ہمارے جگر گوشے نئی تہذیب کے دلدادہ نوجوان، اسلام کے مقدس اصولوں کا مذاق اڑاتے ہیں، بات بات پر تنقیدی نظر ڈالتے ہیں اور اس شریعت مقدسہ کو ناقابل عمل، لغو اور بیکار گردانتےہیں۔
عقل حیران ہے کہ جس قوم نے دنیا کو سیراب کیا وہ آج کیوں تشنہ ہے؟ جس قوم نے دنیا کو تہذیب و تمدن کا سبق پڑھایا وہ آج کیوں غیر مہذب اور غیر متمدن ہے؟
رہنمایان قوم نے آج سے بہت پہلے ہماری اس حالت زار کا اندازہ لگایا اور مختلف طریقوں پر ہماری اصلاح کے لیے جدوجہد کی مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
آج جب کہ حالت بد سے بد تر ہو چکی اور آنے والا زمانہ ماسبق سے بھی زیادہ پر خطر اور تاریک نظرآ رہا ہے، ہمارا خاموش بیٹھنا اور عملی جدو جہد نہ کرنا ایک ناقابل تلافی جرم ہے لیکن اس پہلے کہ ہم کوئی عملی قدم اٹھائیں ، ضروری ہے کہ ان اسباب پر غور کریں جن کے باعث ہم اس ذلت و خواری کے عذاب میں مبتلا کئے گئے ہیں۔ ہماری اس پستی اور انحطاط کے مختلف اسباب بیان کئے جاتے ہیں، اور ان کے ازالہ کی متعدد تدابیر اختیا ر کی گئیں لیکن ہر تدبیر ناموافق و ناکام ثابت ہوئی جس کے باعث ہمارے رہبر بھی یاس و ہراس میں گھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ اب تک ہمارے مرض کی تشخیص ہی پورے طورپر نہیں ہوئی۔ یہ جو کچھ اسباب بیان کیے جاتے ہیں اصل مرض نہیں بلکہ اس کے عوارض ہیں پس تاوقتیکہ اصل مرض کی جانب توجہ نہ ہوگی اور مادہ حقیقی کی اصلاح نہ ہوگی، عوارض کی اصلاح ناممکن اور محال ہے۔ پس جب تک کہ ہم اصل مرض کی ٹھیک تشخیص اور اس کا صحیح علاج معلوم نہ کر لیں، ہمارا اصلاح کے بارے میں لب کشائی کرنا سخت ترین غلطی ہے۔
ہمارا یہ دعویٰ کہ ہماری شریعت ایک مکمل قانون الٰہی ہے جو ہماری دینی اور دنیوی فلاح وبہبود کا تا قیام قیامت ضامن ہے۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم خود ہی اپنا مرض تشخیص کریں اور خود ہی اس کا علاج شروع کردیں، بلکہ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن حکیم سے اپنا اصل مرض معلوم کریں اور اسی مرکز رشدو ہدایت سے طریق علاج معلوم کر کے اس پر کار بند ہوں۔ جب قرآن حکیم قیامت تک کے لیے مکمل دستورالعمل ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس نازک حالت میں ہماری رہبری سے قاصر رہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post