Display4

پارٹ2
اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے کہ اُن کو ضرور روئے زمین کا خلیفہ بنائے گا۔ اور یہ بھی اطمینان دلایا ہے کہ مومن ہمیشہ کفار پر غالب رہیں گے اور کافروں کا کوئی یارو مددگار نہ ہو گا۔
اور اگر تم سے یہ کافر لڑتے ہو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگتے۔ پھر نہ پاتے کوئی یارومددگار۔اور مومنوں کی نصرت اور مدد اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور وہی ہمیشہ سر بلند اور سرفراز رہیں گے۔
اور حق ہے ہم پر مدد ایمان والوں کی۔ اور تم ہمت مت ہارو اور رنج مت کرو اور غالب تم ہی رہو گے اگر تم پورے مومن رہے۔اور اللہ ہی کی ہے عزت اور اس کے رسولؐ کی اور مسلمانوں کی۔
مذکورہ بالا ارشادات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی عزت، شان و شوکت، سربلندی و سرفرازی اور ہر برتری و خوبی اُن کی صفت ایمان کے ساتھ وابستہ ہے اگر ان کا تعلق خدا اور رسولؐ کے ساتھ مستحکم ہے(جوایمان کا مقصود ہے) تو سب انکا ہے۔ اور اگر خدانخواستہ اس رابطہ تعلق میں کمی اور کمزوری پیدا ہوگئی ہے تو پھر سراسر خُسران اور ذلت و خواری ہے جیسا کہ واضح طور پر بتلا دیا گیا ہے۔
قسم ہے زمانہ کی انسان بڑے خسارے میں ہے مگر جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسر ے کو حق کی فہمائش کرتے رہے اور ایک دوسرے کو پابندی کی فہمائش کرتے رہے۔
ہمارے اسلاف عزت کے منتہا کو پہنچے ہوئے تھے اور ہم انتہائی ذلت و خواری میں مبتلا ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ وہ کمال ِایمان سے متصف تھے اور ہم اس نعمت عظمیٰ سے محروم ہیں جیسا کہ مخبرِ صادقﷺ نے خبر دی ہے۔
قریب ہی ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا، اور قرآن کے صرف نقوش رہ جائیں گے۔
اب غور طلب امر یہ ہے کہ اگر واقعی ہم اس حقیقی اسلام سے محروم ہو گئے جو خدا اور رسولؐ کے یہاں مطلوب ہے اور جس کے ساتھ ہماری دین و دنیا کی فلاح و بہبود وابستہ ہے تو کیا ذریعہ ہے جس سے وہ کھوئی ہوئی نعمت واپس آئے؟ اور وہ کیا اسباب ہیں جن کی وجہ سے روحِ اسلام ہم سے نکال لی گئی اور ہم جسد ِ بے جان رہ گئے۔
جب مصحفِ آسمانی کی تلاوت کی جاتی ہے اور "اُمتِ محمدیہؐ" کی فضیلت اور برتری کی علت و غایت ڈھونڈھی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس اُمت کو ایک اعلیٰ اور برتر کام سپُرد کیا گیا تھا جس کی وجہ سے" خیرالاُمم"کا معزز خطاب اس کو عطا کیا گیا۔
دُنیا کی پیدائش کا مقصدِ اصلی خداوحدہ لاشریک لَہ کی ذات و صفات کی معرفت ہے اور یہ اس وقت تک ناممکن ہے کہ جب تک بنی نوع انسان کو برائیوں اور گندگیوں سے پاک کر کے بھلائیوں اور خوبیوں کے ساتھ آراستہ نہ کیا جائے۔
اسی مقصد کے لئے ہزاروں رسول اورنبی بھیجے گئے اور آخر میں اس مقصد کی تکمیل کے لئے سید الانبیاء والمرسلینؐ کو مبعوث فرمایا اور الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی کا مژدہ سنایا گیا۔ اب چونکہ مقصد کی تکمیل ہوچکی تھی، ہر بھلائی اور برائی کو کھول کھول کر بیان کر دیا گیا تھا، ایک مکمل نظام ِ عمل دیا جا چکا تھا، اس لئے رسالت و نبوت کے سلسلہ کو ختم کر دیا گیا اور جو کام پہلے نبی اور رسول سے لیا جاتا تھا، وہ قیامت تک" اُمت ِ محمدیہ" کے سپُرد کر دیا گیا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post