Display4

وسعت رزق کا وعدہ اہتمام نمازپر موقوف ہے
اے محمد(ﷺ)اپنے متعلقین کو بھی نماز کا حکم کرتے رہیے اور خود بھی اس کے پابند رہیے ہم آپ سے معاش نہیں چاہتے معاش تو آپ کو ہم دیں گے اور بہتر انجام تو پرہیزگاری ہی کا ہے۔
متعدد روایات میں یہ مضمون وارد ہوا ہے کہ جب نبی کریمﷺکو کسی کی تنگی معاش کے رفع فرمانے کا فکر ہوتا تو اس کو نماز کی تاکید فرماتے اور آیت بالا کو تلاوت فرما کر گویا اس طرف اشارہ فرماتے کہ وسعت رزق کا وعدہ اہتمام نماز پر موقوف ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ اس آیت شریفہ میں نماز کے حکم کرنے کے ساتھ خود اس پر اہتمام کرنے کا حکم اس لئے ارشاد ہوا ہے کہ یہ انفع ہے کہ تبلیغ کے ساتھ ساتھ جس چیز کا دوسروں کو حکم کیا جاوے خود بھی اس پر اہتمام کیا جاوے کہ اس سے دوسروں پر اثر بھی زیادہ ہوتا ہےاور دوسروں کے اہتمام کا سبب بنتاہے۔ اسی لئے ہدایت کے واسطے انبیاءعلیہمُ الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا ہے کہ وہ نمونہ بن کر سامنے ہوں تو عمل کرنے والوں کو عمل کرنا سہل ہو اور یہ خدشہ نہ گذرے کہ فلاں حکم مشکل ہے اس پر عمل کیسے ہو سکتا ہے۔
اس کے بعد رزق کے وعدہ کی مصلحت یہ ہے کہ نماز کا اپنے اوقات کے ساتھ اہتمام بسا اوقات اسباب معیشت میں ظاہراًنقصان کا سبب معلوم ہوتا ہے بالخصوص تجارت ملازمت وغیرہ میں،اس لئے اس کو ساتھ کے ساتھ دفع فرما دیا کہ یہ ہمارے ذمہ ۔ یہ سب دُنیاوی امور کے اعتبار سے ہے اس کے بعد بطورِ قاعدہ کلیہ اور امر بدیہی کے فرمایا کہ عاقبت تو ہے ہی متقیوں کے لئے، اس میں کسی دوسرے کی شرکت ہی نہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post