Display4

قصہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن نضر کی شہادت کا
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن نضر ایک صحابی تھے جو بدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔ ان کواس چیز کا صدمہ تھا اس پر اپنےنفس کو ملامت کرتے تھے کہ اسلام کی پہلی عظیمُ الشان لڑائی اور تُو اس میں شریک نہ ہو سکا۔ اس کی تمنا تھی کہ کوئی دوسری لڑائی ہو تو حوصلے  پورے کروں۔ اتفاق سے اُحُد کی لڑائی پیش آ گئی جس میں یہ بڑی بہادری اور دلیری سے شریک ہوئے۔ اُحُد کی لڑائی میں اول اول تو مسلمانوں کو فتح ہوئی مگر آخر میں ایک غلطی کی وجہ سےمسلمانوں کو شکست ہوئی۔ وہ غلطی یہ تھی کہ حضور اکرمﷺنے کچھ آدمیوں کو ایک خاص جگہ مقرر فرمایا تھا کہ تم لوگ اتنے میں نہ کہوں اس جگہ سے نہ ہٹنا کہ وہاں سے دشمن کے حملہ کرنے کا اندیشہ تھا ۔جب مسلمانوں کو شروع میں فتح ہوئی تو کافروں کو بھاگتا  ہوادیکھ کریہ لوگ بھی اپنی جگہ سے یہ سمجھ کر ہٹ گئے کہ اب جنگ ختم ہو چکی اس لیے بھاگتے ہوئے کافروں کا پیچھا کیا جائے اور غنیمت کا مال حاصل کیا جائے۔ اس جماعت کے سردار نے منع بھی کیا کہ حضورؐ کی ممانعت تھی تم یہاں سے نہ ہٹو۔ مگر ان لوگوں نے یہ سمجھ کر کہ حضورؐ کا ارشاد صرف لڑائی کے وقت کے واسطے تھا۔ وہاں سے ہٹ کرمیدان میں پہنچ گئے۔ بھاگتے ہوئے کافروں نے اس جگہ کو خالی دیکھ کراُس طرف سے آ کر حملہ کر دیا۔ مسلمان بے فکر تھےاس اچانک بے خبری کے حملہ سے مغلوب ہوگئے اور دونوں طرف سے کافروں کے بیچ میں آگئے۔ جس کی وجہ سے ادھر اُدھر پریشان بھاگ رہے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا  کہ سامنے سے ایک دوسرے صحابی حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ آرہے ہیں۔ اُن سے کہا کہ اے سعد کہاں جا رہے ہو، خدا کی قسم جنت کی خوشبو اُحُد پہاڑ سے آرہی ہے۔ یہ کہہ کر تلوار تو ہاتھ میں تھی ہی کافروں کے ہجوم میں گھُس گئے اور اتنے شہید نہیں ہو گئے واپس نہیں ہوئے۔ شہادت کے بعد اُن کے بدن کو دیکھا گیا تو چھلنی ہو گیا تھا۔80 سے زیادہ زخم تیر اور تلوار کے بدن پر تھے۔اُن کی بہن نے انگلیوں کے پوروں سے اُن کو پہچایا۔
ف:جولوگ اخلاص اور سچی طلب کے ساتھ اللہ کے کام میں لگ جاتے ہیں اُن کو دنیا ہی میں جنت کا مزہ آنے لگتا ہے۔ یہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ زندگی  ہی میں جنت کی خوشبو سونگھ رہے تھے ۔اگر اخلاص آدمی میں ہو جاوے تو دنیا میں بھی جنت کا مزہ آنے لگتا ہے۔میں نے ایک معتبر شخص سے جو حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب رائے پوریؒ کے مخلص خادم ہیں حضرت کا مقولہ سُنا ہے کہ "جنت کا مزہ آرہاہے"

Post a Comment

Previous Post Next Post