Display4

صلح حدیبیہ اور ابو جندل اور ابو بصیررضی اللہ تعالیٰ عنہم کا قصہ
6 ہجری میں حضور اقدس ﷺ عمرہ کے ارادہ سے مکہ تشریف لے جا رہے تھے۔ کفارِ مکہ کو اس کی خبر ہوئی او وہ اس خبر کو اپنی ذلت سمجھے اس لیے مزاحمت کی اور حدیبیہ میں آپ کو رکنا پڑا۔ جاں نثار صحابہ ساتھ تھے جو حضور ﷺ پر جان قربان کر نا فخر سمجھتے تھے۔لڑنے کو تیا ر ہو گئے۔ مگر حضور ﷺ نے مکہ والوں کی خاطر سے لڑنے کا ارادہ نہیں فرمایا اور صلح کی کوشش کی اور باوجود صحابہ کی لڑائی پر مستعدی اور بہادری کے حضور اکرم ﷺ نے کفار کی اس قدر رعایت فرمائی کہ ان کی ہر شرط کو قبول فرما لیا۔ صجابہ کو اس طرح دب کر صلح کرنا بہت ہی ناگوار تھا مگر حضور ﷺ کے ارشاد کے سامنے کیا ہو سکتا تھا کہ جاں نثار تھے اور فرمانبردار اس لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے بہادروں کو بھی دبنا پڑا۔ صلح میں جو شرطیں طے ہوئیں ان شرطوں میں ایک یہ شرط بھی تھی کہ کافروں میں جو شخص اسلام لائے اور ہجرت کرے مسلمان اس کو مکہ واپس کر دیں اور مسلمانوں میں سے خدانخواستہ اگر کوئی شخص مرتدہو کر چلا آئے تو وہ واپس نہ کیا جائے یہ صلحنامہ ابھی تک پورا نہیں لکھا گیا تھا کہ حضرت ابو جندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک صحابی تھے جو اسلام لانے کی وجہ سے طرح طرح کی تکلیفیں برداشت کر رہے تھے اور زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے۔ اسی حالت میں گرتے پڑتے مسلمانوں کے لشکر میں اس امید پر پہنچے کہ ان لوگوں کی حمایت میں جا کر اس مصیبت سے چھٹکارا پاؤںگا۔ ان کے باپ سہیل نے جو اس صلحنامہ کفار کی طرف سے وکیل تھے اور اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، فتح مکہ میں مسلمان ہوئے۔
انہوں نے صاحبزادے کے طمانچے مارے اور واپس لے جانے پر اصرار کیا۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ابھی صلحنامہ مرتب نہیں ہوا اس لیے ابھی پابندی کس بات کی مگر انہوں نے اصرار کیا۔پھر حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی مجھے مانگا ہی دے دو۔ مگر وہ لوگ ضد پر تھے نہ مانا ۔
ابو جندل نے مسلمانوں کو پکا ر کر فریا د بھی کی کہ میں مسلمان ہو کر آیا اور کتنی مصیبتیں اُٹھا چکا اب واپس کیا جا رہا ہوں ، اس وقت مسلمانوں کے دلوں پر جو گذررہی ہو گی اللہ ہی کو معلوم ہے مگر حضور ﷺ کے ارشاد سے واپس ہوئے حضور ﷺ نے تسلی فرمائی اور صبر کرنے کا حکم دیا، اور فرمایا کہ عنقریب حق تعالیٰ شانُہ تمھارے لیے راستہ نکالیں گے صلحنامہ کے مکمل ہو جانے کے بعد ایک دوسرے صحابی ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مسلمان ہو کر مدینہ منورہ پہنچے۔ کفار نے ان کو واپس بلانے کے لیے دو آدمی بھیجے حضور اقدس ﷺ نے حسب ِوعدہ واپس فرما دیا۔ ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض بھی کیا یا رسول اللہ میں مسلمان ہو کر آیا ، آپ کفار کے پنجہ میں پھر بھیجتے ہیں۔ آپﷺ نے ان سے بھی صبر کرنے کو ارشاد فرمایا اور فرمایا کہ انشاءاللہ عنقریب تمھارے واسطے راستہ کھلے گا۔ یہ صحابی ان دونوں کافروں کے ساتھ واپس ہوئے۔ راستہ میں ان میں سے ایک سے کہنے لگے کہ یار تیری یہ تلوار تو بڑی نفیس معلوم ہوتی ہے۔
شیخی باز آدمی ذرا سی بات میں بھول جاتا ہے وہ نیام سے تلوار نکال کر کہنے لگا کہ ہاں میں نے بہت سے لوگوں پر اس کا تجربہ کیا ہے یہ کہہ کر تلوار ان کے حوالہ کر دی ۔ اُنہوں نے اسی پر اس کا تجربہ کیا ۔دوسرا ساتھی یہ دیکھ کر ایک کو تو نمٹا دیا اب میرا نمبر ہے۔ بھاگا ہوا مدینہ آیا اور حضور اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میر اساتھی مر چکا ہےاب میرا نمبر ہے۔اس کے بعد ابو بصیررضی اللہ تعالیٰ عنہ پہنچے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ اپنا وعدہ پورا فرما چکے کہ مجھے واپس کر دیا اور مجھ سے کوئی عہد ان لوگوں کا نہیں ہے جس کی ذمہ داری ہو۔ وہ مجھے میرے دین سے ہٹاتے ہیں اس لیے میں نے یہ کیا۔
حضور ﷺ نے فرمایا کہ لڑائی بھڑکانے ولا ہے۔ کاش کوئی اس کا معین و مددگار ہوتا۔ وہ اس کلام سے سمجھ گئے کہ اب بھی اگر کوئی میری طلب میں آئے گا تو میں واپس کر دیا جاؤں گا۔ اس لیے وہ وہاں سے چل کر سمندر کے کنارے ایک جگہ آپڑے۔ مکہ والوں کو اس قصہ کا حال معلوم ہوا تو ابو جندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی جن کا قصہ پہلے گذر چکاہے چھپ کر وہیں پہنچ گئے۔ اسی طرح جو شخص مسلمان ہوتا وہ ان کے ساتھ جا ملتا۔ چند روز میں یہ ایک مختصر سی جماعت ہو گئی۔ جنگل میں جہاں نہ کھانے کا کوئی انتظام، نہ وہاں باغات اور آبادیاں، اس لیے ان لوگو ں پر جو گذری ہو گی وہ تو اللہ ہی کو معلوم ہے۔ مگر جن ظالموں سے ظلم سے پریشان ہو کر یہ لوگ بھاگے تھے ان کا ناطقہ بند کر دیا۔ جو قافلہ ادھر کو جاتا اس سے مقابلہ کرتے اور لڑتے۔ حتیٰ کہ کفار مکہ نے پریشان ہو کر حضورﷺ کے خدمت میں عاجزی اورمنت کر کے اللہ کا اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر آدمی بھیجا کہ اس جماعت کو اپنے پاس بلا لیں کہ یہ معاہدہ میں تو داخل ہو جائیں اور ہمارے لیے آنے جانے کا راستہ کھلے۔ لکھا ہے کہ حضور ﷺ کا اجازت نامہ جب ان حضرات کے پاس پہنچا تو ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرض الموت میں گرفتار تھے۔ حضور ﷺ کا والہ نامہ ہاتھ میں تھا کہ اسی حالت میں انتقال فرمایا(رضی اللہ عنہ وارضاہ)
ف: آدمی اگر اپنے دین پر پکا ہو، بشرطیکہ دین بھی سچا ہو تو بڑی سے بڑی طاقت اس کو نہیں ہٹا سکتی اور مسلمان کی مدد کا تو اللہ کا وعدہ ہے بشرطیکہ وہ مسلمان ہو۔

Post a Comment

Previous Post Next Post