Display4

سب سے بہتر بات
اور اس سے بہترکس کی بات ہو سکتی ہے جو خدا کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے، اور کہے کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں  (بیان القرآن)
مفسرین نے لکھا ہے کہ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی طرف کسی کو بلائے وہ اس بشارت اور تعریف کا مستحق ہے خواہ کسی طریق سے بلائے مثلاً انبیا علیم الصلوٰۃ والسلام معجزہ وغیرہ سے بلاتے ہیں اور علماء دلائل سے، مجاہدین تلوار سے، اور مؤذنین اذان سے۔ غرض جو بھی کسی شخص کو دوعوت الی الخیر کرے وہ اس میں داخل ہے خواہ اعمال ِظاہرہ کی طرف بلائے یا اعمال باطنہ کی طرف۔
جیسا کہ مشائخ صوفیہ معرفت اللہ کی طرف بلاتے ہیں(خازن) مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ قال اننی من المسلمین میں اس طرف اشارہ ہے کہ مسلمان ہونے کے ساتھ تفاخر بھی ہو اس کو اپنے لیے باعث عزت بھی سمجھتا ہو۔ اس اسلامی امتیاز کو تفاخر کے ساتھ بھی ذکر کرے۔
بعض مفسرین نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ مقصد یہ ہے کہ اس وعظ، نصیحت،تبلیغ سے اپنے کو بہت بڑی ہستی نہ کہنے لگے،بلکہ یہ کہے کہ عام مسلمین میں سےایک مسلمان میں بھی ہوں۔
اے محمد (ﷺ) لوگوں کو سمجھاتے رہیئے۔ کیونکہ سمجھانا ایمان والوں کو نفع دے گا
مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سے قرآن پاک کی آیت سنا کر نصیحت فرمانا مقصود ہے کہ وہ نفع رساں ہے۔ مؤمنین کے لئے تو ظاہر ہے کفار کے لیے بھی۔ اس لحاظ سے کہ وہ انشاءاللہ اس کے ذریعہ سے مؤمنین میں داخل ہو جائیں گے اور آیت کے مصداق میں شامل ہوں گے۔ ہمارے اس زمانے میں وعظ و نصیحت کا راستہ تقریباً بند ہو گیا ہے وعظ کا مقصد بالعموم شستگئی تقریر بن گیا ہے تاکہ سننے والے تعریف کر دیں حالانکہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے جو شخص تقریر و بلاغت اس لیئے سیکھے تاکہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کرے تو قیامت کے دن اس کی کوئی عبادت مقبول نہیں نہ فرض نہ نفل۔

Post a Comment

Previous Post Next Post