Display4

حضرت ابو ذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسلام

حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ مشہور صحابی ہیں جو بعد میں بڑے زاہدوں اور بڑے علماء میں سے ہوئے ۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ہے کہ ابوذر ایسے علم کو حاصل کیے ہوئے ہیں جس سے لوگ عاجز ہیں مگر انھوں نے اس کو محفوظ  کررکھا ہے۔
جب ان کو حضورﷺ کی نبوت کی پہلے پہل خبر پہنچی ، تو انھوں نے اپنے بھائی کو حالات کی تحقیق کے واسطے مکہ بھیجا کہ جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میرے پاس وحی آتی ہے اور آسمان کی خبریں آتی ہیں اُس کے حالات معلوم کریں اور اس کے کلام کو غور سے سنیں۔ وہ مکہ مکرمہ آئے حالات معلوم کرنے کے بعد اپنے بھائی سے جا کر کہا کہ میں نے اُن کو اچھی عادتوں اور عمدہ اخلاق کا حکم کرتے دیکھا اور ایک ایسا کلام سُنا جو نہ شعر ہے نہ کاہنوں کا کلام ہے۔ ابوذر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس مجمل بات سےتسشفی نہ ہوئی ۔ تو خود سامانِ سفر کیا اور مکہ پہنچے اور سیدھے مسجد حرام میں گئے۔ حضورؐ کو پہچانتے نہیں تھے اور کسی سے پوچھنا مصلحت کے خلاف سمجھا، شام تک اسی حال میں رہے۔ شام کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے دیکھا کہ ایک پردیسی مسافر ہے۔ مسافروں کی، غریبوں کی، پردیسیوں کی خبر گیری، ان کی ضرورتوں کا پورا کرنا ان حضرات کی گھٹی پڑا ہوا تھا۔اس لئے ان کو گھر لے آئے۔ میزبانی فرمائی لیکن اس کے پوچھنے کی کچھ ضرورت نہ سمجھی کہ کون ہو، کیوں آئے ہو،مسافر نے بھی کچھ بھی ظاہر نہ کیا۔
صبح کو پھر مسجد میں آ گئے اور دن بھر اسی حال میں گذرا کہ خو د پتہ نہ چلا اور دریافت کسی سے نہیں کیا۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہو گی کہ حضورؐ کے ساتھ دشمنی کے قصے بہت مشہور تھے۔ آپؐ کو اور آپؐ کو ملنے والوں کو ہر طرح کی تکلیفیں دی جاتی تھیں۔ اُن کو خیال ہوا کہ صحیح حال معلوم نہیں ہو گا اور بدگمانی کی وجہ سے مفت کی تکلیف علیحدہ رہی۔ دوسرے دن شام کو بھی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خیال ہوا کہ پردیسی مسافر ہے بظاہر جس غرض کے لیے آیا ہے وہ پوری نہیں ہوئی، اس لیے پھر اپنے گھر لے گئے اور رات کو کھلایا سلایا، مگر پوچھنے کی اس رات بھی نوبت نہ آئی۔ تیسری رات کو پھر یہی صورت ہوئی۔ حضرت علی نے دریافت کیا کہ تم کس کام آئے ہو، کیا غرض ہے تو حضرت ابوذر نے اول ان کو قسم اورعہدوپیمان دیئےاس بات کے کہ وہ صحیح بتائیں۔ اس کے بعد اپنی غرض بتلائی ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک وہ اللہ کے رسول ہیں اور صبح کو جب میں جاؤں تو تم میرے ساتھ چلنا میں وہا ں تک پہنچا دوں گا ۔ لیکن مخالفت کا زور ہے اس لئے راستہ میں اگر کوئی شخص مجھ کو ایسا ملا جس سے میرے ساتھ چلنے کی وجہ سے تم پر کوئی اندیشہ ہو تو میں پیشاب کرنے لگوں گا یا اپنا جوتا درست کرنے لگوں گا، تم سیدھے چلنا، میرے ساتھ ٹھہرنا نہیں جس کی وجہ سے تمھارا ساتھ ہونا معلوم نہ ہو۔چنانچہ صبح کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پیچھے پیچھے حضور ؐ کی خدمت میں پہنچے۔ وہاں جا کر بات چیت ہوئی، اسی وقت مسلمان ہو گئے۔
حضور اقدسﷺ نے ان کی تکلیف کے خیال سے فرمایا کہ اپنے اسلام کو ابھی ظاہر نہ کرنا چپکے سے اپنی قوم میں چلے جاؤ، جب ہمارا غلبہ ہو جائے اس وقت چلے آنا۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اس کلمہ توحید کو ان بے ایمانوں کے بیچ میں چلا کے پڑھوں گا ۔ چنانچہ اسی وقت مسجد حرام میں تشریف لے گئے اور بلندآواز سے اشھدُاَن لاَاِلٰہَ الااللہ واشھدان محمدارسولُ اللہ پڑھا۔
پھر کیا تھا چاروں طرف سے لوگ اٹھے اور اس قدر مارا کہ زخمی کر دیا مرنے کے قریب ہو گئے ۔ حضورؐ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اس وقت تک مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے اُن کے اوپربچانے کے لئے لیٹ گئے اور لوگوں سے کہا کہ کیا ظلم کرتے ہو، یہ شخص قبیلہ غفار کا ہے اور یہ قبیلہ ملک شام کے راستہ میں پڑتا ہے تمھاری تجارت وغیرہ سب ملک شام کے ساتھ ہے۔ اگر یہ مر گیا تو شام کا آنا جانا بند ہو جائے گا۔ اس پر ان لوگوں کو بھی خیال ہوا کہ ملک شام سے ساری ضرورتیں پوری ہوتی ہیں وہاں کا راستہ بند ہو جانا مصیبت ہے اس لئے ان کو چھوڑ دیا۔
دوسرے دن پھر اسی طرح انھوں نے جا کر بآوازبلند کلمہ پڑھا۔ اور لوگ اس کلمہ کے سُننے کی تاب نہ لا سکتے تھے، اس لئے اُن پر ٹوٹ پڑے۔ دوسرے دن بھی حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی طرح اُن کو سمجھا کر ہٹایا کہ تمھاری تجارت کا راستہ بند ہو جائے گا۔
ف: حضورؐ کے اس ارشاد کے باوجود کہ اپنے اسلام کو چھپاؤ اُن کا یہ فعل حق کے اظہار کا ولولہ اور غلبہ تھا کہ جب یہ دین حق ہے تو کسی کے باپ کا کیا اجارہ ہے جس سے ڈر کر چھپایا جائے۔ اور حضورؐ  کا منع فرمانا شفقت کی وجہ سے تھا کہ ممکن ہے تکالیف کا تحمل نہ ہو، ورنہ حضورؐ کے حکم کے خلاف صحابہ رضی اللہ عنہم کی یہ مجال ہی نہ تھی ۔
چونکہ حضور اقدس ﷺ خود ہی دین کے پھیلانے میں ہر قسم کی تکلیفیں برداشت فرما رہے تھے، اس لئے حضرت ابوذررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سہولت پر عمل کی بجائے حضورؐ کے اتباع کو ترجیح دی ۔یہی ایک چیز تھی جس کی وجہ سےہر قسم کی ترقی دینی و دنیوی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے قدم چوم رہی تھی اور ہر میدان  اُن کے قبضہ میں تھا کہ جو شخص بھی ایک مرتبہ کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام کے جھنڈے  کے نیچے آجاتا تھا، بڑی سے بڑی قوت بھی اس کو روک نہ سکتی تھی او رنہ بڑے سے بڑا ظلم اس کو دین کی اشاعت سے ہٹا سکتا تھا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post