Display4

دو چیزوں میں حسد جائز ہے

ابنِ عُمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضور اقدس ﷺکا یہ ارشادمنقول ہے کہ حسد دوشخصوں کے سوا کسی پر جائز نہیں۔ ایک وہ جس کو حق تعالیٰ شاُنہ نےقرآن شریف کی تلاوت عطا فرمائی اور وہ دن رات اس میں مشغول رہتا ہے دوسرے وہ جس کو حق سبحانہ نے مل کی کثرت عطافرمائی اور وہ دن رات اس کو خرچ کرتا ہے۔
قرآن شریف کی آیات اور احادیث کثیرہ کے عموم سے حسد کی برائی اور ناجائز ہونا مطلقاً معلوم ہوتا ہے۔ اس حدیث شریف سے دو آدمیوں کے بارے میں جواز معلوم ہوتا ہے چونکہ وہ روایات زیادہ مشہور وکثیرہیں اس لئے علماء نے اس کے دو مطلب ارشاد فرمائے ہیں ۔
اول یہ کہ حسد اس حدیث شریف میں رشک کے معنی میں ہے جس کو عربی میں غبطہ کہتے ہیں۔ حسد اور غبطہ میں یہ فرق ہے کہ حسد میں کسی کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر یہ آرزو ہوتی ہے کہ اس کے پاس یہ نعمت نہ رہے خواہ اپنے پاس حاصل ہو یا نہ ہو، اور رشک میں اپنے پاس اس کے حصول کی تمناو آرزو ہوتی ہے عام ہے کہ دوسرے سے زائل ہو یا نہ ہو۔
چونکہ حسد بالاجماع حرام ہے اس لئے علماء نے لفظ حسد کو مجازاًغبطہ کے معنی میں ارشاد فرمایا ہے جو دنیوی اُمور میں مباح ہے اور دینی اُمور میں مستحب ہے ۔
دوسرا مطلب یہ بھی ممکن ہے کہ بسا اوقات کلام علیٰ سبیل الفرض والتقدیر مستعمل ہوتا ہے ۔یعنی اگر حسد جائز ہوتا تو یہ دو چیزیں ایسی تھیں کہ ان میں جائز ہوتا

Post a Comment

Previous Post Next Post