Display4

حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن الارت کی تکلیفیں
حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن الارت بھی انہی مبارک ہستیوں میں ہیں جنہوں نے امتحان کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا تھا اور اللہ کے راستہ میں سخت سے سخت تکلیفیں برداشت کیں۔ شروع ہی میں پانچ چھ آدمیوں کے بعد مسلمان ہوگئے تھے، اس لئے بہت زمانہ تک تکلیفیں اٹھائیں۔
لوہے کی زرہ پہنا کر ان کو دھوپ میں ڈال دیا جاتا جس سے گرمی اور تپش کی وجہ سے پسینوں پر پسینے بہتے رہتےتھے۔ اکثر اوقات بالکل سیدھا گرم ریت پر لٹا دیا جاتا جس کی وجہ سے کمر کا گوشت تک گل کر گر گیاتھا۔ یہ ایک عورت کے غلام تھے اس کو خبر پہنچی کہ یہ حضوراقدسﷺسے ملتے ہیں تو اس کی سزا میں لوہے کو گرم کر کے ان کے سر کو اس سے داغ دیتی تھی۔
حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نےایک مرتبہ عرصہ کے بعد اپنے زمانہ خلافت میں حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان تکالیف کی تفصیل پوچھی،جو اُن کو پہنچائی گئیں انہوں نے عرض کیا کہ میری کمر دیکھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کمر دیکھ کر فرمایا کہ ایسی کمر تو کسی کی دیکھی ہی نہیں۔انھوں نے عرض کیا کہ مجھے آگ کے انگاروں پر ڈال کر گھسیٹا گیا۔ میری کمر کی چربی اور خون سے وہ آگ بُجھی۔
ان حالات کے باوجود جب اسلام کو ترقی ہوئی اور فتوحات کا دروازہ کھُلا تو اس پر رویا کرتے کہ خدانخواستہ ہماری تکالیف کا بدلہ کہیں دنیا ہی میں تو نہیں مل گیا۔ حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضوراقدسﷺ نے خلاف عادت بہت ہی لمبی نماز پڑھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کے متعلق عرض کیا تو حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ یہ رغبت و دوڑ کی نماز تھی۔میں نے اس میں اللہ تعالیٰ سے تین دُعائیں کی تھیں۔ دو اُن میں  سے قبول ہوئیں اور ایک کو انکار فرمادیا۔
میں نے یہ دُعا کی کہ میری ساری اُمت قحط سے ہلاک نہ ہو جائے یہ قبول ہو گئی۔ دوسری یہ دُعا کی کہ اُن پر کوئی ایسا دشمن مسلط نہ ہو جو اُن کو بالکل مٹا دے یہ بھی قبول ہو گئی۔ تیسری یہ دُعا کی کہ آپس میں لڑائی جھگڑے نہ ہوں یہ بات منظور نہیں ہوئی۔
حضرت خباب کا انتقال 37 ہجری میں ہوا اور کوفہ میں سب سے پہلے صحابی یہی دفن ہوئے۔ ان کے انتقال کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا گذر اُن کی قبر پر ہوا تو ارشاد فرمایا اللہ خباب پر رحم فرمائیں اپنی رغبت سے مسلمان ہوا اور خوشی سے ہجرت کی اور جہاد میں زندگی گذار دی اور مصیبتیں برداشت کیں۔ مبارک ہے وہ شخص جو قیامت کو یاد رکھے اور حساب کتاب کی تیاری کرے اور گذارہ کے قابل مال پر قناعت کرے اور اپنے مولا کو راضی کر لے۔
ف: حقیقت میں مولا کو راضی کر لینا انہی لوگوں کا حصہ تھا کہ ان کی زندگی کاہر کام مولیٰ ہی کی رضا کے واسطے تھا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post