Display4

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شکر و شکایت نظم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 نظم ظرب کلیم میں سے ہے اور 13 نمبر کی نظم ہے اقبال فرماتے
ميں بندہ ناداں ہوں، مگر شکر ہے تيرا
 اے اللہ تعالی میں ایک نادان انسان ہوں میں کم سمجھ انسان ہوں میں میرا شعور بہت ترقی یافتہ نہیں ہے میں بہت قابل اور اپنے آپ کو صحیح نہیں سمجھتا میں ایک سادہ سا انسان ہوں مگر شکر ہے تیرا لیکن اقبال فرماتے ہیں مالک آپ کا شکر ہے آپ کا کرم ہے آپ کی عطا ہے کیا

رکھتا ہوں نہاں خانہ لاہوت سے پيوند
اقبال فرما رہے ہیں کہ میرا تعلق ہو گیا ہے نہاں خانہ کا مطلب ہےچھپی ہوئی جگہ نہاں کا مطلب ہے چھپا ہوا ہونا اور نہاں خانہ کا مطلب ہے وہ جگہ جو پوشیدہ ہو۔
 اور لاہوت کا مطلب ہے عالم افلاک لاہوت کا مطلب ہے وہ والا  جہاں فرشتے آباد ہیں اور جہاں حریم کبریا ہے جہاں رب ذوالجلال کی جو جلوے اور فرشتوں کو میسر ہیں اور ہم جہاں پر مرنے کے بعد جائیں گے
عالم لاہوت عالم بالا تو چھپا ہوا عالم بالا نہاں خانہ کا مطلب کیا ہوا چھپا ہوا عالم بالا خانہ کا کیا مطلب ہوا کر چھپی ہوئی جگہ اور
 لاہوت کا مطلب کیا ہوا آخرت کا گھر کے میرا تعلق آخرت کی زندگی سے ہو گیا ہے عالم افلاک سے ہو گیا ہے میرا تعلق عالم لاہوت سے جڑ گیا ہے میرا تعلق عالم نوری سے جڑ گیا ہے اور میں وہاں سے وابستہ ہو گیا ہوں کیا مطلب جب ایمان لے آتے ہیں تو آپ کا تعلق رب ذوالجلال کے ساتھ قائم ہو جاتا ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قائم ہو جاتا ہے جیسے سورہ بقرہ کا آخری رکوع ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایمان لے آئے اور ان کے ساتھ تمام ایمان والے ایمان لے آئے کیا ایمان لے آئے پھر کیا ہوا اور ان سب نے کہا آ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی فرما دی تو سب نے کہا کیا کہا

یہ میں بتا رہا ہوں عالم لاہوت سے تعلق ہو جانے کا مطلب کیا ہے اورجب ایمان لےآتا ہے  انسان تو کیا ہوتا ہے اور ان سب نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا ہمارے رب معاف فرما دیجئے ہمارے گناہوں کو معاف فرما دیجئے ہم نے سنا اور مانا اور عمل لے آئے  اور لگ پڑے اور آپ کی طرف دوڑ لگا دی اور آپ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اپنا دل و جان سے قبول کر لیا
اب پھر مومنین کیا کہہ رہے ہیں وہ اور وہ کہتے ہیں کہ  ہم نے سنا اور ہم نے فرمانبرداری اختیار کیا میں تابعداری اختیار کی  اب ہمیں معاف فرما دیجئے رب کریم ہمارے سے کوئی غلطی ہو جائے خطا ہوجائے تو معاف فرما دیجئے نا اے ہمارے رب ہمارے رب ہم نے آپ کی طرف لوٹ کے آنا ہے
 پھر اگلا شعر ہے
اک ولولہ تازہ ديا ميں نے دلوں کو
اقبال کہتے ہیں میرے کریم جب آپ کا شکر ہوا جب آپ کی عطا ہوئی جب آپ کا کرم ہوا میرے اوپر تو میں جو نادان ساتھ عام سا انسان تھا اقبال کہتے ہیں
اک ولولہ تازہ ديا ميں نے دلوں کو
لاہور سے تا خاک بخارا و سمرقند

اقبال فرماتے ہیں پھر میرے اوپر آپ کا جب کرم ہوگیا عطا ہو گئی تو پھر مجھ میں آپ نے میرے کلام میں وہ طاقت عطا فرما دی کہ میری شاعری میرے کلام، نے میری دعوت، نے میرے نغموں نے،
اقبال فرماتے ہیں یہ میرے نغمے جو ہیں یہ میری دعوت ہے یہ میرے شعر جو ہیں یہ ایک پیغام ہے ایک پیغام ہے


میری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ
کہ میں ہوں محرم راز دروں میخانہ
اقبال فرما رہے ہیں یہ مت سمجھنا میری شاعری سے شاعری ہے یہ تو پیغام ہے محرم راز درون میں مطلب سیکرٹ راز آپ جانتے ہیں دل میں  میخانے کے اندر کے راز یعنی اسلام کو میخانہ کہا ہے اور مدینہ کو میخانہ کہا  ہے اور مکہ کو میخانہ کہا ہے اور خانہ خانہ کعبہ کو
اقبال یہ ٹرمینالوجی استعمال کرتے ہیں مثلاً مے تو حجازی ہے میری تو یہ کہہ رہے ہیں میری مے حجازی ہے یعنی حجاز والی ہے یعنی اسلام ہی میری شراب اسلام ہی ہے یہ شراب طہورہ ہے یہ وہ شراب ہے جو جنت میں پلائی جائے گی جا کے کوئی ناراض نہ ہو جائے کوئی کیا کہہ دیا ہم نے تو کہا ہی نہیں تو جو کچھ بھی کہا اقبال نے کہا کوئی اقبال سے ناراض ہو تو ہم کہیں گے  وہ اللہ تعالی بھی تو فرماتے ہیں نا قرآن مجید میں کتنے تذکرے ہیں وہ جس شراب طہورہ کے تذکرے آتے ہیں یہ وہ والی شراب کا تذکرہ آیا اس لیے جلدی سے  تنگ نظر ہو کے ناراضگی اختیار نہیں کرنی چاہیے چیزوں کو گہرائی میں جا کے دیکھنا چاہیے تو
اقبال فرما رہے ہیں جب مجھ پے عطا ہو گئی میرا تعلق عالم لاہوت سے جڑ گیا آخرت کے ساتھ تعلق جوڑ گیا ایمان کی دولت عطا ہوگی قرآن مجید سے وابستگی ہوگئی میں قرآن مجید کے سیکرٹس کو جاننے لگ گیا
 تو اقبال کہتے ہیں
تھا ضبط بہت مشکل اس سیل معانی کا
سیل سیلاب کو کہتے ہیں ضبط کا مطلب ہے کنٹرول کرنا اقبال کہتے ہیں
تھا ضبط بہت مشکل اس سیل معانی کا
کہہ ڈالے قلندر نے اسرار کتاب آخر
اقبال کہہ رہے ہیں کہ جب میں قرآن مجید پڑھتا رہا اس معانی کا ایک  سیلاب اور عظمتوں کا ایک سیلاب اور انڈرسٹینڈنگ کا معرفت کا ایک سیلاب تھا میرے وجود کے اندر جیسے جیسے معرفت اور عرفان اس کا سیلاب بڑھتا رہا ہے پھر ضبط کرنا مشکل ہوگیا
 کوشش کی میں نے روکا روکا روکا لیکن پھر وہ میرا سینہ پھاڑ کے باہر آنا چاہتا تھا تو میں نے اس لیے قرآن مجید کے اسرار و حقائق بیان کرنے شروع کر دیے


تاثير ہے يہ ميرے نفس کی کہ خزاں ميں
مرغان سحر خواں مری صحبت ميں ہيں خورسند
میرے نفس کی کہ میرے سانس کی میری شاعری کی میری بات کی میرے کلام کی میری گفتگو کی میری محنت کی ہے کہ جب مایوس ہوتی ہے خزاں ہوتی ہے اداسی ہوتی ہے ویرانی ہوتی ہے بیماری ہوتی ہے اور رکاوٹیں ہوتی ہیں تو میں موٹیویشن کی روح پھونک دیتا ہوں
اقبال فرماتے میں تحریک بھر دیتا ہوں اور میں آگے بڑھنے کا جذبہ شوق عطا کر دیتا ہوں ایک بار کہتے ہیں تاثیر ہے یہ میرے نفس کی کہ میری شاعری کی میرے کلام کی میری پھوک کی اقبال کہتے ہیں یہ تاثیر ہے
 کیا کہ خزاں کے موسم میں بھی اداسیوں میں بھی ویرانیوں میں بیماریوں میں بھی اور مشکل حالات میں بھی اور زوال کے دور میں بھی مرغان سحر خواں ہیں آپ کو کہا ہے یہ مجھے کہا ہے یہ ہم سب کو کہا یہ امت مسلمہ کو کہا ہے کہ برصغیر کے مسلمان جب اقبال کے نغمے گنگنانے لگے اور ان کے اندر روح پھونکی گئی جرات اور ہمت کے ساتھ اپنی منزلوں کی طرف آگے بڑھنے لگے
اقبال کہہ رہے ہیں مرغان سحر خواں
 مرغان پرندوں کو کہتے ہیں اردو میں مرغ اور ہوتا ہے  لیکن فارسی کے اندر مرغ پرندے کو کہتے ہیں یہاں فارسی  والا مرغ ہے مرغان اس کی جمع ہوتی ہے یعنی پرندے سحر خواں صبح کو گانے والے سحر صبح اور خواں گانے والے صبح کے وقت گانے والے پرندے
 وہ پرندے جو بہار میں گایا کرتے تھے جو بہار کے موسم میں گاتے تھے وہ خزاں کے موسم میں بھی میرے ساتھ خوش رہنے لگے ہیں یعنی مشکلوں میں بھی لوگ میری شاعری سے موٹیویشن لینے لگے ہیں
 فرما رہے ہیں تکلیف و مشکلات میں مسائل میں بھی اقبال موٹیویشن اور پیغام لے رہے ہیں میری شاعری سے آگے بڑھنے کا جذبہ لے رہے ہیں اور شوق لے رہے ہیں اور ہمت پکڑے ہیں اور اداسی ڈپریشن اور مایوسیوں سے نکل کے لیڈر بن رہے ہیں قبول کرے میری یہ عطا ہو گئی ہے
اقبال کہتے ہیں کہ میرے مالک کا کرم ہو گیا ہے جب نہاں خانہ لاہوت سے تعلق ہوا جب ایمان بنا اور رب کریم سے  تعلق جڑا رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلقِ جڑا  تو کیسے لیڈرشپ آگئی کہ
 اقبال فرماتے ہیں
تاثير ہے يہ ميرے نفس کی کہ خزاں ميں
مرغان سحر خواں مری صحبت ميں ہيں خورسند
خزاں کے موسم میں بھی صبح کو کھانے والے پرندے بہار کی طرح خوش ہیں خزاں کے موسم میں بھی میرے ساتھ ہیں
 آخری شعر کی طرف بڑھتے ہیں
ليکن مجھے پيدا کيا اس ديس ميں تو نے
اقبال ایک چھوٹی سی پیاری  والی شکایت کر رہے ہیں ہمیں شکوے نہیں  کرنے چاہیے، شکایتیں نہیں کرنی چاہیں لیڈر کی زندگی میں شکوہ نہیں ہوتے شکایت نہیں ہوتی اس کی زندگی میں یہ نہیں آتا کہ وہ شکایت کا پلندہ بنائے گئے آپ نے یہ نہیں کیا، وہ نہیں کیا  میری خاطر کیوں نہ کیا میری خاطر کیوں نہ کیا میرے عزیزو میری بہنوں میرے بھائیو والد صاحب نے جو کر دیا ان  کی خدمت کرتے رہیں ان کو سلام کرتے رہے ہیں ان کو سلیوٹ مارتے ہیں اب ان کی تعریف کرتے رہیں جو وہ کر سکتے تھے کر دیا جو نہیں کیا   آپ کے والد صاحب کی اور ذمہ داریاں بھی تھیں شکایات کا پلندہ نہ بنیں  آپ نے یہ نہ کیا ،آپ نے وہ نہ کیا یہ لیڈر شپ نہیں ہے
 ہم اقبال کی شاعری سے  لیڈرشپ سیکھ رہے ہیں قرآن مجید کے پیغام سے لیڈر شپ سیکھ رہے ہیں  اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ سےلیڈر شپ سیکھ  رہے ہیں۔
 لیڈر شپ شکایتوں کا نام نہیں ہے یہ تو ایکنالج کرنے کا نام ہے یہ تو کسی کے احسان کو ماننے کا نام ہے یہ تو کسی کی بھلائ اور اچھائ کو یاد رکھنے کا نام ہے اور جو لوگ نہیں کرسکے فوراً کرنے کا نام ہے
 جو کہ ہم بھی نہ جانے کیا کچھ لوگوں کے لئے نہیں کر سکے ہم نے والدین کے لے جو کرنا ہے وہ کر پائے نہیں کر سکے ہم نے ماں باپ کے لے جو کرنا تھا کر پائے نہیں کر پائے ہم نے اپنے بچوں کے لے کر آئے نہیں کر پائے زوجہ نے شوہر کے لیے شوہر  نے زوجہ کے لئے نہیں کر پائے
 تو ہم سب انسان کمزور ہیں بندہ نادان ہیں ہم سب کچھ نہیں کر سکتے اس لیے آپ کی شکایت ختم کر لوگوں کو معاف کر دیا کریں اس حدیث مبارکہ کسی دن بعد کریں گے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا واقعہ ہےابھی شیئر نہیں کرتا اس کا فرق یہ ہے کہ اگر سب کو معاف کر کے سوئیں تو جنت کی بشارت دی تھی ایک صحابی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کے اوپر اس لئے میری اچھی بہنوں میں روزانہ سب کو معاف کرے چونکہ قرآن مجید اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام اقبال کی شاعری کے اندر رچا بسا ہے ہر جگہ اس لئے میں آج اندر ہی قرآن مجید کا پیغام بھی دے رہا ہوں اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام بھی دے رہا ہوں تاکہ ہم ملا کر پڑھے ہیں اقبال کے کلام کو قرآن مجید جہاں سے اقبال نے موضوعات اٹھائے ہیں جہاں سے ہدایت لی ہے اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ساتھ ساتھ ہم پڑھ رہے ہیں جن کے دامن رحمت میں ہم سب کے لئے سارے جہان کی کامیابیاں پڑی ہوئی ہیں سے ہم نے لینا ہے وہیں سے کامیابیوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو توں کی خاک ہیں ساری کائنات کے خزانے پڑے ہوئے ہیں
 اگر ہمارے ہاتھ آئے کبھی آنکھوں سے لگائیں سر پر کبھی رکھوں کبھی آنکھوں سے لگا ؤں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاک کف پا
ہاتھ آئے اگر خاک کف پائے مدینہ
سر پر کبھی رکھوں کبھی آنکھوں سے لگاؤں
تو ہم کہہ رہے تھے
ليکن مجھے پيدا کيا اس ديس ميں تو نے
اقبال صرف یہ اپنے لوگوں کو موٹیویٹ کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں شکایت نہیں کر رہے شکوہ نہیں کر رہے بلکہ
اقبال فرما رہے ہیں
لیکن مجھے پیدا کیا اس دیس میں تو نے اے میرے مالک ہیں  اےمیرے خالق نے مجھے کیسے دیس میں پیدا کیا ہے جہاں کے لوگ کیسے ہیں
جس ديس کے بندے ہيں غلامی پہ رضا مند
میں ان کو آزادی کی طرف لے کے جاتا ہوں میں ان کو تقلید کی روش سے نکالتا ہوں میں ان کو اندھی بہری گونگی تقلید کی روش سے نکالتا ہوں ان کو روشنی کی طرف لے کے جانا چاہتا ہوں میں قرآن مجید کی روشنی کی طرف لانا چاہتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سیرت طیبہ کے اجالوں کی طرف لاکر ان کی زندگی کو منور کرنا چاہتا ہوں ان کو دنیا اور آخرت میں کامیاب کرنا چاہتا ہوں یہ غلامی پہ رضامند ہیں یہ مغربی اقدار سے متاثر ہو گئے ہیں یہ مغرب کی چکا چوند سے متاثر ہو گئے ہیں
عجیب و غریب قسم کے جدید نیگیٹو منفی چیز سے متاثر ہو گئے ہیں یہ برہنگی سے متاثر ہوگئے ہیں ،عریانی سے متاثر ہو گئے ہیں اقبال کہتے ہیں یہ غلامی ہے مغربی افکار کی غلامی سے نکالنا چاہتے ہیں سیکھنے کے لئے مثبت چیزوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کو
وہ اقبال خود مغرب کے بہت سارے چیزوں کی تعریف کرتے ہیں سائنس سیکھنی چاہیے ٹیکنالوجی سیکھنی چاہیے انگریزی سیکھنی چاہیے سن لینا چاہیے علوم کے ساتھ بہرہ ور ہونا چاہیے اس میں تو کوئی پرابلم نہیں ہے میرے اپنے بچے بھی ظاہر ہے انگریزی میڈیم اسکول میں پڑھتے ہیں انگلش ہی بولتے ہیں انگریزی کتب بھی پڑھتے ہیں میں یہ عرض کر رہا ہوں اقبال چھوٹے سے لیول پہ آکے بات نہیں کر رہے تھے اقبال کا ویژن بہت بڑا ہے اقبال کا ویژن بہت برا ہے لینن خدا کے حضور کسی دن جب میں پڑھوں گا تو آپ دیکھیں گے کہ اقبال نے جو جائز تنقید مغرب کے اوپر کی ہے لیکن جو چیزیں پازیٹیو ھیں جو چیزیں ہیں ان کو اقبال ہمیشہ سے سائنس کے خلاف نہیں رہے ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں رہے

تو آخری شعر
ليکن مجھے پيدا کيا اس ديس ميں تو نے
جس ديس کے بندے ہيں غلامی پہ رضا مند
میرے مالک میرے خالق اقبال فرما رہے ہیں
ميں بندہ ناداں ہوں، مگر شکر ہے تيرا
رکھتا ہوں نہاں خانہ لاہوت سے پيوند
میرے مالک میں نے لوگوں کو پیغام دیا عصمت کا پیغام بلندی کا پیغام آگے بڑھنے کا پیغام لیڈرشپ کا پیغام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا پیغام ایک عظیم الشان اخلاق کا پیغام ایک عظیم کردار کا پیغام اقبال کہتے ہیں لوگ ہیں کہ یہ دلچسپی نہیں لیتے ہیں غلامی پہ رضامند ہیں اداسی میں چاہتے ہیں سستی میں پڑے رہنا چاہتے ہیں جبکہ ایکشن کے اندر زندگی ہے آگے بڑھنے میں زندگی ہے
اقبال فرماتے ہیں
یا وسعت افلاک میں تکبیر مسلسل
یا خاک کی آغوش میں تسبیح و مناجات
غلامی کیا ہے اقبال فرماتے ہیں
یا وسعت افلاک میں تکبیر مسلسل
ایک زندگی مومن کی زندگی ہے کہ وہ وسعت افلاک  میں افلاک کی بلندیوں کے اندر اللہ اکبر کی اذان بلند کرنا یعنی عمل کی زندگی ،ایکشن کی زندگی، محبت کی زندگی، خدمت کی زندگی، لوگوں کے کام آنے کی زندگی ،لوگوں کی مدد کرنے کی زندگی اور لوگوں کو آگے بڑھانے کی زندگی ،لوگوں کے لئے کا انٹرویو کرنے کی زندگی سوسائٹی کے کام آنے کی زندگی کے بارے فرماتے ہیں
یا وسعت افلاک میں تکبیر مسلسل
یا خاک کی آغوش میں تسبیح و مناجات
 یا بس بیٹھ کے  اکیلا تسبیح کرتا رہے گا یہ بھی بہت بڑا کام ہے تسبیح کرنا بھی بہت بڑا کام ہے اللہ کی تسبیح سے بڑھ کے کیا ہوگا لیکن اقبال صرف یہ کہہ رہے ہیں اگر عمل کی زندگی چھوڑ دیں اگر والدین کے حقوق ادا کرنا چھوڑ دیں اگر والدین کے لیے  بہن بھائی بچے عزیز و اقارب دوست دوست لوگوں کے لئے اگر آپ جو ہے وہ عمل کرنا چھوڑ دے بیٹھ جائے مسجد میں بیٹھ جائے کسی کونے میں بیٹھ جائے اور عملی زندگی چھوڑ دے اور ترک دنیا کرلے اور ایک بالکل جو ہے وہ بے عملی کی زندگی اختیار کر لے اس پہ اقبال تنقید کر رہے ہیں
یہ ہے مردان خودآگاہ و خدامست
 اقبال فرماتے یہ جو عمل کی زندگی ایکشن کی زندگی آخرت کی زندگی موت کی زندگی لوگوں کے کام آنے کی زندگی بیماری میں تکلیف میں غربت میں لوگوں کی مدد کرنا آگے بڑھنا اپنے وسائل کو لوگوں کے لئے جو بھی وسائل بولنے کا وسیلہ لوگوں کے لئے خلق خدا کے لئے اللہ کے بندوں کے لئے لگا دیں اور اگر آپ کے پاس وسائل دولت کی صورت میں وہ لگا دیں جس صورت میں تعین لگا دیں جو آپ کے پاس ہے


تو بچا بچا کے نہ رکھ اسےتیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہےنگاہ آئینہ ساز میں

Post a Comment

Previous Post Next Post