Display4

Leadership and Career Development(امامت) by Allama Iqbal



لیڈر شپ اور کیرئیر ڈویلپمنٹ
ہر نوجوان بچہ بوڑھا مرد عورت لیڈر بننا چاہتے ہیں لیڈر کو بہت ہی لیمیٹڈ ٹائم میں دیکھتے ہیں۔ویژن بڑا بلند ہونا چاہیے۔لیڈرشپ کا ویژن اتنا لیمیٹڈ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم سوچتے ہیں کہ لیڈرشپ جاب میں کامیاب ہونے کا کام ہے،  ہم سوچ لیں، صرف کسی ایک بزنس میں لیڈ کرنے کا کام ہے، صرف لوگوں سے بیگ اٹھاوانے لوگ ہمیں سلام سلیوٹ کریں، لیڈر شپ اس سے بہت بڑھ کے ہے۔ لیڈرشپ کی علامت یہ ہے کہ جب ان کے اوپر مشکلات آتی ہیں، تکلیف آتی ہی، چیلنجز آتے ہیں، رکاوٹیں آتی ہیں وہ اور زیادہ بہتر پرفارم کرنے
لگ جاتے ہیں رکنے کی بجائے، تھکنے کی بجائے، گرنے کی بجائے، جھکنے کی بجائے۔
حالات کے قدموں میں قلندر نہیں گرتا
ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا
گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریامیں
لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
 تو اقبال کی نظم جو آج ہم نے منتخب کی ہے وہ ہےامامت۔ اور امامت کا مطلب لیڈرشپ ہوتا ہے۔
تو نے پوچھي ہے امامت کي حقيقت مجھ سے
حق تجھے ميري طرح صاحب اسرار کرے
اقبال فرماتے پہلی بات تو یہ ہےاے مخاطب، اے پوچھنے والے، ایے سوال کرنے والے، اے جاننے کی جستجو اور طلب رکھنے والے، اے جاننے کی آرزو رکھنے والے، آپ نے سوال کیا ہے لیڈرشپ کیا ہوتی ہے؟
What is The Reality of Leadership?
 لیڈر شپ کیا ہوتی ہے؟ تو اقبال فرماتے ہیں اے مخاطب حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے اقبال فرماتے ہیں پہلے تو میں آپ کو یہ کہتا ہوں کہ سوال پوچھنے والے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی آپ کو میری طرح    کو پاگیا ہوں۔Secrets of Leadership رازوں کاجاننے والا بنا دیے ہیں جس طرح میں
اقبال فرماتے ہیں جس طرح میں لیڈر کی حقیقت کو سمجھ گیا ہوں، یہ حقیقت جب میں آپ کو سمجھاؤ تو حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے ۔صاحب اسرار کا مطلب رازوں کا جاننے والا۔ تو اقبال فرما رہے ہی
صاحب اسرار یعنی رازوں کا جاننے والا ۔
 تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ لیڈرشپ کیا ہوتی ہے  تو سب سے پہلے تو میں آپ کو یہ کہتا ہوں کہ حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے اقبال دعا فرما رہے ہیں بات شروع کرنے سے پہلے لیڈرشپ کے راز کھولنے سے پہلے لیڈر شپ کے سیکریٹس  اوپن کرنے سے پہلے ایک بار دعا فرما رہے ہیں کہ اے  مخاطب، اے سننے والے، اے پوچھنے والے، اے جاننے کی طلب اور جستجو آرزو اور تمنا رکھنے والے پہلے تو اقبال یہ فرما رہے ہیں کہ آج میں تمہارے لیے دعا کرتا ہوں  کہ حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے کہ اللہ تعالی آپ کو توفیق عطا
فرما دے آپ میری طرح رازوں کے جاننے والے ہو جائیں۔
    یعنی لیڈرشپ کو گہرائی سے جاننے والے ہو جاؤ۔ تو آؤ میں بتاؤں لیڈرشپ کیا ہوتی ہے تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے اے پوچھنے والے تم نے مجھ سے یہ پوچھا
 آپ جس ٹائم میں رہے ہیں جس زمانے میں رہ رہے ہیں اقبال فرماتے ہیں ان ٹائمز میں ان زمانوں میں آؤ میں تمہیں بتاؤں آج کے دور میں رئیل لیڈر شپ کیا ہوتی ہے؟ہے وہی، وہی شخص ہے تیرے زمانے کا اس
دور آج کاکنٹمپرری آج کے ٹائمزکا امام برحق رئیل لیڈر۔
برحق کا مطلب ہے رئیل، برحق کا مطلب ہوتا ہے آن دا ٹرتھ، اس کا مطلب ہو تا ہے کہ رائٹ پرسن اور
برحق کا مطلب ہے سچائی پر قائم اور اس کا مطلب ہے ٹرو۔ٹرو لیڈر کون ہے؟
جو تجھے حاضر و موجود سے بيزار کرے
 وہی تیرے زمانے کا امام برحق وہی شخص تمہارے زمانے کا صحیح لیڈر ہے جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے۔ اقبال فرماتے ہیں آپ کے عہد، کا آپ کے زمانے کا، آپ کے دو رکا۔ اے پوچھنے والے تیرے دور کا صحیح لیڈر وہ شخص ہے جو تجھے صرف موجودہ زمانے میں گم نہ رہنے دے جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے حاضر وموجود کا کیا مطلب ہے جو چیزیں آج ہمارے سامنے ہیں جو رکاوٹیں  ہمارے سامنےہیں، جو مشکلات Ground realtiesہمارے سامنےہیں، جو چیلنجز ہمارے سامنے ہیں تو کبھی کبھی انسان کہتا ہے کہ
یہی ہیں مشکلات ہی بڑی، راستےنہیں مل رہے،رہنمائی نہیں مل رہی، ہمارے لئے آپرچونیٹی ہی نہیں۔ نہیں نہیں اقبال فرما رہے ہیں لیڈر ویژنری ہوتا ہے، لیڈر کی آنکھ بہت دور تک دیکھتی ہے آپ جانتے ہیں کہ آپ اسلام آباد جانے کے لیے نکلتے ہیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ راستے میں بار بار جب آپ کلرکہار کو کراس کرتے ہیں اس پر پہنچتے ہیں تو اب دیکھتے ہیں کہ آپ کو آگے پہاڑ راستہ روکے ہوئے دکھائی دیتے ہیں آپ کو یوں لگتا ہے جیسے آگے  پہاڑ کھڑے ہیں اور کوئی راستہ نہیں ہے آپ کو یوں لگتا ہے جیسے کوئی راستہ آپ کو دکھائی نہیں دے رہا لیکن جیسے جیسے آپ قریب  پہنچتے ہیں آپ کو راستے دکھائی دیتے ہیں حتیٰ کہ آپ چلتے چلتے اسلام آباد جانا چاہتے ہیں، پشاور جانا چاہتے ہیں، آپ کے لئے راستے نکلتے رہتے ہیں رکنے والے کے لئے راستے ختم ہوتے ہیں تو رکنے والا حاضر وموجود کو دیکھتا ہے اسے سامنے دکھائی دیتا ہے یہ پہاڑ کھڑے ہیں، اسےسامنے دکھائی دیتا ہےرکاوٹیں کھڑی ہیں،لیکن جو چلتے  رہتے ہیں آگے بڑھتے رہتے ہیں ان کو راستے ملتے رہتے ہیں  اسے کہتے ہیں حاضر و موجود سے بیزار۔ مثال کے طور پر حاضر و موجود کیا ہے آج کے دور میں بیماری ہے، تکلیف ہے، اور بندشیں ہیں، اور رکاوٹیں ہیں، اور کاروبار بزنس کے چیلنجز اور رکاوٹیں اور بندشیں ہیں۔ تو بظاہر انسان رکا ہوا ہے۔ لیکن ہم کیا پڑھ رہے ہیں؟ ہم پڑھ رہے ہیں امامت۔ ہم کیا پڑھ رہے رہیں ؟ ہم پڑھ رہےہیں لیڈرشپ، ہم کیا پڑھ رہے ہیں؟ ہم پڑھ رہے ہیں ڈویلپمنٹ ،ہم کیا پڑھ رہے ہیں؟  کامیابی۔ ہم کیا پڑھ رہے ہیں؟ ہم پڑھ رہے ہیں کلامِ اقبال۔ ہم کیا پڑھ رہے ہیں؟ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ ہم کیا پڑھ رہے ہیں ؟ ہم پڑھ رہے ہیں قرآنِ حکیم۔ یعنی ہم نے مشکل کواپرچونٹی میں بدل دیا ہے تو اسے
کہتے ہیں لیڈر شپ۔ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق وہی شخص آپ کے دور کا صحیح اور لیڈر ہے۔
 اقبال فرماتے ہیں کون جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے جو تجھے سامنے دکھائی دینے والے حاضر اور موجود جو آج کے چیلنجز، تکلیفیں، رکاوٹیں، پرابلم، مسائل ہیں ان سے بیزار کر دے یعنی تو اس کے چکر میں ایک نہ رہ جائے۔ تو آپ پرابلم اورینٹڈ نہ رہ جائیں آپ سولیوشن اورینٹڈ بن جائیں۔ آپ یہ نہ دیکھیں کیا کیا چلینجز ہیں؟ آپ دیکھیں کل کے لیے میں کیا کیا اپرچونٹی پیدا کر سکتا ہوں۔ آج کے چیلنجز کو ، آج کے مشکلات کو ،آج کی رکاوٹوں کو کل کی اپرچونٹی میں ،کل کے بڑے بڑے گول میں، کل کے بڑے بڑے ٹارگٹس میں بدل سکتا ہوں۔ تو پھر آپ کچھ لرن کرنے لگ جائیں گے، کچھ سیکھنے لگ جائیں گے، لیڈرشپ سیکھنے لگ جائیں ، کیرئیر  ڈویلپمنٹ سیکھنے لگ جائیں گے۔ تو جب یہ وقت گزرے گا تو آپ نے زمانے میں نئے دن میں جب
داخل ہوں گے تو بے شمار چیزیں سیکھ چکے ہوں گے اقبال ہی کا ایک بڑا خوبصورت شعر ہے
ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں
 یعنی لیڈر جو ہوتا ہے وہ حاضر اور موجود مسائل کے اندر الجھا نہیں رہتا۔ یہی اقبال فرما رہے ہیں وہ حاضر اور نوجوان نسل مسائل اور پرابلم کا سینہ چیر کے آگے بڑھے ویژن کے ساتھ بڑی منزلوں کی طرف بڑھتا رہتا ہے
موت کے آئینے ميں تجھ کو دکھا کر رخِ دوست
زندگی تيرے ليے اور بھی دشوار کرے
دیکھئے کتنی بڑی بات اقبال نے  کہہ دی کہ لیڈر کون ہوتا ہے وہ حاضر اور موجودہ چیلنجز سے انسان کو اوپر اٹھا دیتا ہے وہ پریزنٹ وسائل، تکلیفیں، اور مفادات، اور لالچ، اور مٹیریلزم، مادہ پرستی اور ذاتی مفاد اس حاضر اور موجود جو ایک نیچے کھینچنے والی گریویٹیشنل پل ہے انسان کو کریکٹر میں، پرسنیلٹی میں، شخصیت میں ،ڈویلپمنٹ میں جو انسان کی لیڈر شپ کو گھن کی طرح کھا جاتی ہیں چیزیں اقبال کہتے ہیں ان سے لیڈر اوپر اٹھا دیتا ہے
اور کہاں لے جاتا ہے؟
موت کے آئینے ميں تجھ کو دکھا کر رخِ دوست
موت کے آئینے میں بھی ایک لیڈر ہے۔سچا لیڈر جو ہے وہ اپنےساتھیوں، کو اپنے کولیکس، اپنے  ڈیسائیڈ پلس کو ،اپنے شاگردوں، کو اپنے بہن بھائیوں کو، عزیزوں کو، گھر والوں کو، فیملی کو، بچوں کو، اپنے لوگوں کو، کیا دکھاتا ہے اقبال فرماتے ہیں موت کے آئنے میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست لیڈر کون ہوتا ہے جو موت سے نہیں ڈرتا اور اس کے چاہنے والے، اس سے درس لینے والے، اس سے سیکھنے والے، اس کے ساتھی ہیں ان کو بھی وہ کیسے بنا دیتا ہے؟ کہ وہ موت کی بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے وہ دیکھنے لگ جاتے ہیں۔ کیا مطلب ہے؟ وہ موت کے آئینے میں اپنے دوست کو دیکھ رہےہوتے ہیں کیونکہ رب ذوالجلال کے دیدار کے متلاشی ہوتے ہیں، رب ذوالجلال کو دیکھنے کی آرزو رکھتے ہیں۔ ایک  دن میرا بیٹا مجھ سے پوچھے گا بابا جان ہم اللہ تعالی کو کب دیکھیں گے میں نے اس سے کہا کہ بیٹے یہ اللہ تعالی کو تبھی ہماری ورلڈ لائف ختم ہوگئی ہے جب ہم مرجائیں گے دنیا میں تو پھر ہم آخرت کی زندگی میں جائیں گے تو پھر قرآن مجید کے اندر ہے کہ ہم آخرت میں اللہ تعالی کو دیکھیں تو اللہ تعالی کے جلوے دیکھیں گے اللہ تعالی کی نشانیاں دیکھیں گے۔ انفس کے اندر بھی اپنے وجود کے ۔ ایک شخص جو ہے وہ آپ ہیں اور پھر ہمارے اندر کی دنیا یہ نفس کی دنیا ہے اور باہر کی دنیا آباد کی دنیا ہے انفس و آفاق اقبال نے اس کو بہت جگہوں پر ان موضوعات پر بات کی ہے جو چلتے چلتے کریں گے تو ابراہیم اپنے بیٹے کو میں نے کہا بیٹے یہ تو میں نے روایتی باتوں سے بتائیں کہ مرنے کے بعد
اللہ تعالی کا دیدار نصیب ہوگا انشاءاللہ میں تجھے میں نے سمجھایا کہ یہ موت کے بعد کا معاملہ ہے۔
 کہنے لگا ابا جان ہم کب مریں گے؟ اتنے بڑے شوق سے اور بڑے پیار سے اور بڑی محبت سے اور موت کے بارے میں بڑا ہی ہے شوق کا اظہار کرتے ہوئے ہم کب مریں گے تو جہ فرمائے موت کے آئنے میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست  لیڈر شپ کا کیا کام ہے کہ وہ موت سے ڈرتے نہیں ہیں اللہ والے موت سے ڈرتے نہیں ہیں جب حقیقت کھل جاتی ہے تو موت کے لیے تیاری توضرور کرتے ہیں۔ہاں اس بات سےتو ڈرتا ہے
انسان کےمیں اور تیاری کر لوں۔
 میرے اچھے بچو، میری اچھی بہنو،میرے عزیزو، ہماری زندگی ہے ہی کیا؟ یاد رکھئے گا ہماری زندگی ایک ملاقات کی کہانی ہے۔ کون سی ملا قات ؟ ربِ ذوالجلال کی ملاقات اقبال کی یہ نظم پڑھیں گے لینن خدا کے حضور اقبال نےلینن کو رب ذولجلال کی بارگاہ میں کھڑا کیا ہے اور بڑی ہی دلچسپ گفتگو فرمائی ہے تو ایک علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں موت کے آئنے میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست لیڈر کا کیا کام ہوتا ہے؟ وہ موت کے آئینے میں بھی رب ذوالجلال سے ملاقات کو دیکھتا ہے رب ذوالجلال کے سامنے حاضری کا شوق رکھتا ہے یار دنیا میں بھی حضور کی زندگی ہو جائے آخرت میں بھی حضور کی زندگی ہو جائے غورفرمائے نا جب آپ اللہ تعالیٰ کے حضور میں رہنا شروع ہوگئے اور اللہ کے حضور کے متلاشی ہوگئے تو بیماری سے نہیں ڈریں گے،غم سے نہیں ڈریں گے، تکلیف سے نہیں ڈریں گے، چیلنج سے نہیں ڈریں گے،حتیٰ کہ موت سے بھی نہیں ڈریں گے۔ کیوں کہ آپ تو بعد میں بھی رب ذوالجلال کے جلوے دیکھ رہے ہیں ۔آپ کہتے ہیں کہ جب میں مروں گااللہ کی بارگاہ میں پیش ہو جاؤں گا۔ توانسان بہادر ہو جاتا ہے، دلیر ہو جاتا ہے، جری ہو جاتا ہے۔ اور
جب انسان بہادرہوگیا، جری ہو گیا، دلیر ہو گیا، تو کسی کے لیے میں آپ ہوں۔
 اگر ایک بہادر انسان ہے، مقابلہ کرنے والا انسان ہے باہمت انسان ہے، مشکلات بیماریوں تکلیفوں کے سامنے ڈٹ جانے والا کھڑا ہو جانے والے انسان ہے تو میرے عزیز و آپ ہی بتائیے یہ کیرئیر بنائے گا یا نہیں، اس کی کیریئر ڈویلپمنٹ ہو گی یا نہیں، یہ پرابلمز کرے گا یا نہیں، یہ بزنس چلینجزآ جائے یا معاشی چیلنجز آ جائے یا صحت کے چیلنجز یا معاشرتی چیلنجز یہ شخص اپنے پاؤں میں اڑاتا ہوا مسائل کو رکاوٹوں کو ٹھوکر لگا ہوا
اپنی منزل کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے ۔
زندگی تيرے ليے اور بھی دشوار کرے
دشوار کا کیا مطلب ہے مشکل بن جاتی ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ والی مشکل جسے عام لوگ
مشکل سمجھتے ہیں نہیں نہیں۔
 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کافر کے لئے جنت کی مانند ہوتی ہے اور مومن کے لئے
ایک قید خانے کی طرح ہوتی ہے۔
 کیونکہ وہ تو اس سے نکل کے اگلے جہانوں کی
 طرف اگلی دنیا کی طرف، لیڈر تو اس دنیا کے بارے میں بھی بڑی مثبت نگاہ رکھتا ہے جو ایک لیڈر ہوتا ہے تو اقبال فرماتے ہیں موت کے آئنے میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے لیڈرکون ہوگا؟ بڑا لیڈر کون ہوگا؟ سچا لیڈر کون ہوگا؟ مسلم لیڈر کون ہوگا؟ اقبال کی اس نظم امامت کے رولز پر پورا اترتا
لیڈر کون ہوگا؟
 جو موت کے آئینے میں بھی برائٹ دیکھے گا اسے کوئی ٹینشن نہیں ہے، کوئی غم نہیں ہے، یار یہ وہ والی موت ہے جو سورہ فجر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ایک اللہ والے کو ایک اللہ کی بندگی اختیار کرنے والے کو ایک ویلیوز والی زندگی اختیار کرنے والے، کو ایک خدمت والی زندگی اختیار کرنے والے، کو ایک اپنا سب کچھ تن من دھن رب ذوالجلال کے حکم کے تابع فرمان کرنے والے کو ،زندگی جب ختم ہوگئی اس دنیا کی زندگی ختم ہو Oh Peaceful Soul گئی تو بات کیسے آئے گی قرآن مجید سے یوں بیان کرتا ہےاے نفسِ مطمئنہ
Lets move towards  your Mood in away  either you are happy with him and he is happy with you  
اے نفسِ مطمئنہ آؤ چلیں تمھارے رب کی طرف لوٹ چلیں۔ اس طریقے سے لوٹ چلیں۔ کس طریقے سے۔
Lets move toward to your Lord in a way
   کہ پھر تیرا رب تجھ سے راضی ہے اور تو اپنے رب سے راضی ہے اور پھر اعلان ہوگا داخل ہو جاؤ میرے بندوں میں، میرے غلاموں میں میرے فرمانبرداروں میں، میرے چاہنے والوں میں، اور جو مجھے مان کے آئے ہیں ان میں داخل ہو جاؤ، اعلان ہوگا میری رضا کی جگہ میں، میری پسند کی جگہ میں، میرے بندوں کی جگہ
میں، مومنین کی جگہ میں، یعنی جہاں مجھ سے ملاقات ہوگی۔
 رب ذوالجلال فرمائیں گے یار جنت اور کیا ہے؟ رب  ذوالجلال کی موجودگی، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
موجودگی، انبیاء کرام علیہم السلام کی موجودگی، صحابہ کرام علیہم السلام کی موجودگی۔
 یار سوچیں تو کتنی رومینٹک جگہ ہے جنت؟ ہم نے جنت کا رومانس چھوڑ دیا ہے جس کی وجہ سے ذخیرہ اندوزی کا شوق ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو لوٹ کھسوٹ کا شوق ہے ،جس کی وجہ سے لوگوں کو کرپشن کا شوق ہے، جس کی بہت سے لوگوں کو ایک دوسرے کی غیبت، چغلی، بہتان، نفرت اور کینہ کا شوق
ہے۔
یہ سارے خباثت والے شوق ختم ہو جائیں گے اور عظیم شوق پیدا ہو جائیں گے ،جب آخرت کا شوق انسان کے اندر آئے گا اور وہ کیسے آئے گا؟ جب  موت کے آئینے میں بھی انسان اپنے رب ذوالجلال سے ملاقات
کے مزے لینا شروع کر دے گا اور وہ کہے گا اقبال کے اس شعر کے مطابق
موت کے آئینے ميں تجھ کو دکھا کر رخِ دوست
زندگی تيرے ليے اور بھی دشوار کرے

Post a Comment

Previous Post Next Post